’کوارٹر فائنل میں مثبت اور جارحانہ کرکٹ کھیلنی ہو گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریلوی بولروں کی وڈیوز دیکھ رہے ہیں اور اسی کے مطابق تیاری کر رہے ہیں: سرفراز احمد

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی بولنگ بہت مضبوط ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے مثبت اور جارحانہ کرکٹ کھیلنی ہو گی۔

پاکستان ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل مرحلے میں جمعے کو آسٹریلیا کے مدِمقابل ہو گا۔

سرفراز احمد نے کہا کہ کوارٹر فائنل میں کوئی بھی ٹیم فیورٹ نہیں ہے اور اس دن جو ٹیم بھی اچھا کھیلی وہی کامیاب ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیااور پاکستان کے میچ ہمیشہ سخت رہے ہیں چونکہ پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں حالیہ ٹیسٹ سیریز جیتی تھی لہٰذا پریشر آسٹریلیا پر ہو گا۔

سرفراز احمد کو جب یاد دلایا گیا کہ آسٹریلوی پیس اٹیک میں بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے مچل سٹارک، مچل جانسن اور جیمز فاکنر موجود ہیں تو انھوں نے اپنے لیفٹ آرم فاسٹ بولرز بھی یاد دلوا دیے۔

’ہمارے پاس بھی محمد عرفان، راحت علی اور وہاب ریاض موجود ہیں جن کی بولنگ پر اچھی پریکٹس مل رہی ہے۔ جہاں تک مچل اسٹارک کا تعلق ہے تو میں انھیں متحدہ عرب امارات میں ایک میچ میں کھیل چکا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’نائنٹیز میں آ کر میں نروس ہوگیا تھا لیکن عمر اکمل نے ہمت بندھائی اور میری سنچری ممکن بنانے کے لیے ایک اوور بلاک کیا‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم میچ سے قبل اپنے ویڈیو اینالسٹ کی مدد سے آسٹریلوی بولروں کی ویڈیوز دیکھ رہے ہیں اور اسی کے مطابق تیاری کر رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ اس عالمی کپ میں مچل سٹارک 16 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں جبکہ مچل جانسن نے نو وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

سرفراز احمد نے آئرلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ کے آخری پول میچ میں سنچری سکور کی جو 2007 کے بعد عالمی کپ مقابلوں میں کسی پاکستانی بلے باز کی پہلی سنچری ہے۔ اتفاق سے یہ سرفراز احمد کی ون ڈے انٹرنیشنل میں پہلی سنچری بھی ہے۔

سرفراز احمد نے اعتراف کیا کہ آئرلینڈ کے خلاف میچ میں سنچری کے قریب آ کر وہ گھبراہٹ کا شکار ہوگئے تھے۔

’نائنٹیز میں آ کر میں نروس ہوگیا تھا لیکن عمر اکمل نے ہمت بندھائی اور میری سنچری ممکن بنانے کے لیے ایک اوور بلاک کیا۔‘

اسی بارے میں