بوم بوم بڑا کھلاڑی یا ہیرو؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زمبابوے میں شروع ہونے والا آفریدی کا سفر ایڈیلیڈ اوول میں اپنے انجام کو پہنچا

شاہد آفریدی نے آج سے 19 برس پہلے کرکٹ کے میدانوں میں اپنے وقت کی تیز رفتار ترین ون ڈے سینچری بنا کر جو دھماکہ دار انٹری دی تھی، آج اتنے ہی غیرمتاثر کن انداز میں اس سفر کا خاتمہ ہو گیا۔

اپنے پہلے ہی میچ میں انھوں نے سری لنکا کے چھکے چھڑاتے ہوئے صرف 37 گیندوں پر سینچری بنا کر ریکارڈ بک میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کروا لیا تھا۔ لیکن آج آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ اوول کے میدان میں وہ صرف 23 رنز ہی بنا پائے۔

ان 19 برسوں میں شاہد آفریدی نے متعدد گیندبازوں کو اپنی دھواں دھار بلے بازی سے دہشت زدہ کیا، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ انھوں نے اپنے کریئر میں ریکارڈ 348 چھکے لگائے۔ یہی نہیں بلکہ طویل ترین اور بلند ترین چھکے کا ریکارڈ بھی انھی کے نام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی لیگ سپن بولنگ کے جادو دکھاتے ہوئے 395 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

لیکن اس کے باوجود آج ان کی بین الاقوامی کریئر کے اختتام پر ان کے پرستار یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آفریدی اصل میں بلے باز تھے، یا گیند باز؟ یا پھر یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ تو نہیں؟

شاید آفریدی تھوڑے بےصبرے تھے۔ وہ آناً فاناً ہی میچ مخالف کے ہاتھ سے یوں چھین لینا چاہتے تھے۔ آج کے پروفیشنل دور میں جارحیت کے لیے بھی جس تحمل اور ٹھنڈے مزاج کی ضرورت ہوتی ہے، شاید آفریدی اس سے عاری تھے۔ اس بےصبری کی وجہ سے وہ تنازعات کی زد میں بھی رہے۔ خاص طور پر بال چبانے اور کرکٹ پچ کو خراب کرنے کے واقعات ان کے کریئر پر دھبے کی مانند ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آفریدی بولر تھے یا بیٹسمین؟ اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں

کھیل کے میدان میں آفریدی کی جو بھی خامیاں رہی ہوں، لیکن یہ بات ماننا پڑے گی کہ انھوں نے گذشتہ دس بارہ برسوں میں پاکستانی سپورٹس کی سب سے نمایاں شخصیت کا کردار خوب نبھایا۔

80 اور 90 کی دہائیوں میں عمران خان، ظہیر عباس، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس کے ساتھ ساتھ ہاکی کے سمیع اللہ، کلیم اللہ، حسن سردار، صلاح الدین، وغیرہ اور سکوائش کے کھلاڑی جہانگیر خان اور جان شیر خان بھی قوم کے ہیروز میں شمار کیے جاتے تھے۔ لیکن نئے ہزاریے کچھ ایسا قحط الرجال آیا کہ ان مشاہیر کے منظرِ عام سے ہٹنے کے بعد خلا پیدا ہوا جسے جیسا تیسا بھی ہو، صرف بوم بوم آفریدی ہی پورا کر سکے۔

Image caption اپنے کریئر میں آفریدی کھیل کے میدان سے زیادہ باہر زیادہ مصروف نظر آئے

اس دوران انھوں نے نہ صرف مقبولیت کے پائیدان پر پہلی پوزیشن حاصل کی بلکہ اپنے نام کو بھی ایک برینڈ میں تبدیل کر ڈالا۔

اس طرح وہ کھلاڑی سے کہیں زیادہ ایک برینڈ یا مقبول ہیرو کے روپ میں زیادہ دکھائی دیے۔ اس دوران کوئی اور کھلاڑی اشتہاروں میں اتنا نظر نہیں آیا جتنا آفریدی۔ خیبرپختونخوا میں ایم ایم اے کی حکومت کے دور میں خواتین کے اشتہاری بورڈوں پر کالک ملی گئی تو لالا اپنی سٹائلش داڑھی کے ساتھ جگہ جگہ شیمپو سے لے کر سافٹ ڈرنکس کے اشتہاروں میں نظر آنے لگے۔

لیکن بدقسمتی سے وہ اپنی اس ’لارجر دین لائف‘ پرسنالٹی کو کھیل کے میدان میں نبھانے میں پوری طرح سے کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس لیے بوم بوم کو ہم ایک بڑا سپرسٹار یا انتہائی مقبول شخصیت تو قرار دے سکتے ہیں، لیکن بڑا کھلاڑی نہیں کہہ سکتے۔

اسی بارے میں