بیٹسمینوں نے ورلڈ کپ کوارٹرفائنل میں ختم کر ڈالا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی بولروں نے آسٹریلوی بیٹنگ کو تتر بتر کرنے کے تمام جتن کر ڈالے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کا عالمی کپ کوارٹر فائنل میں آ کر ختم ہوگیا۔

بیٹسمینوں نے وہی کچھ کر دکھایا جس کا دھڑکا لگا ہوا تھا۔

آسٹریلوی بولنگ وقفے وقفے سے گھاؤ لگاتی رہی اور اس نے صرف 213 رنز پر بساط لپیٹ دی۔

اس کے جواب میں آسٹریلوی ٹیم سٹیو سمتھ اور شین واٹسن کی نصف سنچریوں کی بدولت 34ویں اوور میں چار وکٹوں پر ہدف عبور کر کے سیمی فائنل میں پہنچ گئی جہاں بھارتی ٹیم اس کی منتظر ہے۔

اس میچ کے ساتھ ہی مصباح الحق اور شاہد آفریدی کے بین الاقوامی ون ڈے کریئر بھی اختتام کو پہنچے۔

مصباح الحق نے اس عالمی کپ میں 50 کی اوسط سے350 رنز بنائے جن میں چار نصف سنچریاں شامل تھیں، لیکن شاہد آفریدی کے لیے یہ عالمی کپ خاصا مایوس کن رہا جس میں وہ 23.20 کی اوسط سے صرف 116 رنز بنائے اور141 رنز کی بھاری اوسط سے محض دو وکٹیں حاصل کر پائے۔

مصباح الحق ٹاس میں مائیکل کلارک کو ہرانے میں تو کامیاب رہے لیکن آسٹریلیا کو دباؤ میں رکھنے کے لیے جس سکور کی ضرورت تھی اسے نگاہیں ڈھونڈتی رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وہاب ریاض کی تیز رفتار بولنگ نے آسٹریلوی بیٹسمینوں کو خاصا پریشان کیا

بیٹسمینوں کو نہ جانے کس بات کی جلدی تھی کہ انھوں نے وکٹ پر ٹھہرنا اپنی شان کے خلاف جانا اور شاٹس کا غلط انتخاب کر کے وکٹیں گنواتے رہے۔

سرفراز احمد اور احمد شہزاد نے سلپ میں کیچ دے کر پویلین کی راہ لی۔ یہ دونوں وکٹیں صرف چار گیندوں پر گریں۔

مصباح الحق نے ایک بار پھر مشکل صورت حال میں میدان میں آئے۔ حارث سہیل کے ساتھ وہ ابتدائی ٹوٹ پھوٹ کے بعد اننگز میں ٹھہراؤ لے آئے لیکن 34 کے انفرادی سکور پر ان کی وکٹ گرنے سے پاکستانی شائقین کو اندازہ ہو گیا کہ بازی ہاتھ سے نکلنے والی ہے۔

یہ پاکستانی کپتان کی ون ڈے انٹرنیشنل میں آخری اننگز بھی تھی جو مایوس کن انداز میں ختم ہوئی۔

حارث سہیل جنھیں یونس خان پر فوقیت دے کر ٹیم میں شامل کرنے کے لیے ان کی بولنگ کی اضافی خوبی کے گن گائے جاتے رہے ہیں 41 رنز بناکر ایسے وقت آؤٹ ہوئے جب انھیں اپنی یہ اننگز بڑے سکور میں تبدیل کرنے کی ضرورت تھی۔

عمراکمل کا کریئر اسی گلے شکوے کے ساتھ جاری ہے کہ انھیں اوپر کے نمبر پر بیٹنگ نہیں کرنے دی جاتی۔ آج جب وہ بیٹنگ کے لیے آئے تو تقریباً 27 اوورز باقی تھے لیکن انھوں نے صرف 25 گیندیں کھیل کر اپنی وکٹ گنوائی اور چلتے بنے۔

شاہد آفریدی اگر ون ڈے انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر قائم رہے تو انھوں نے بھی اپنی آخری اننگز کھیل لی، جس نے نہ شائقین کو تفریح فراہم کی اور نہ ہی اس سے ٹیم کی خراب حالت میں بہتری آئی۔

عمراکمل اور آفریدی بھی مصباح الحق کی طرح ڈیپ مڈ وکٹ پر ایرون فنچ کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

صہیب مقصود بھی مائیکل کلارک کے بچھائے ہوئے جال میں پھنسے۔ ہیزل ووڈ کی گیند پر کور میں مچل جانسن نے ان کا کیچ لیا۔

وہاب ریاض نے بریڈ ہیڈن کو کیچ دے کر مچل سٹارک کو اس ورلڈ کپ میں 18ویں وکٹ فراہم کی، لیکن پاکستانی ٹیم کو زیادہ نقصان جوش ہیزل ووڈ نے پہنچایا جنھیں پیٹ کمنز کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا اور انھوں نے صرف 35 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ پاکستانی کپتان کی ون ڈے انٹرنیشنل میں آخری اننگز تھی جو مایوس کن انداز میں ختم ہوئی

پاکستانی بولروں نے آسٹریلوی بیٹنگ کو تتر بتر کرنے کے تمام جتن کر ڈالے۔

سہیل خان نے ایرون فنچ کو ایل بی ڈبلیو کیا جس کے بعد وہاب ریاض کی تیز رفتار بولنگ نے آسٹریلوی بیٹسمینوں کو خاصا پریشان کیا اور اسی کوشش میں وہ مائیکل کلارک اور ڈیوڈ وارنر کو آؤٹ کرکے اس عالمی کپ میں اپنی وکٹوں کی تعداد 16 تک بھی لے گئے، لیکن وہ خاصے بدقسمت رہے کہ ان کی بولنگ پر راحت علی نے شین واٹسن کا چار رنز پر اور پھر سہیل خان نے گلین میکسویل کا چھ رنز پر کیچ ڈراپ کر دیا۔

سمتھ اور واٹسن کی 89 کی شراکت کے بعد واٹسن اور میکسویل کی 68 رنز کی ناقابل شراکت نے پاکستانی ٹیم کی رہی سہی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

میچ جب ختم ہوا تو واٹسن 64 اور میکسویل صرف 29 گیندوں پر 44 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ تھے۔

اسی بارے میں