’اپنی اننگز کھیل چکا، اب نوجوانوں کی باری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’میرے کریئر میں اتار چڑھاؤ رہے لیکن میں نہیں گھبرایا‘

کوئی بھی کپتان ہارنا نہیں چاہتا اور اسے اس ہار سے سخت نفرت ہوتی ہے جو اسے اپنے کریئر کے آخری میچ میں ملے۔

مصباح الحق کو بھی نہ چاہتے ہوئے ایسی ہی ہار کا سامنا کرنا پڑ گیا جس کے بعد انھیں مزید کوئی ون ڈے انٹرنیشنل نہیں کھیلنا۔

مصباح الحق نے ورلڈ کپ سے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ عالمی مقابلے کے بعد ان کا ون ڈے کریئر اختتام کو پہنچے گا لیکن وہ جس طرح چاہتے تھے کہ جیت پر وہ اپنے کریئر کو ختم کریں، ایسا نہ ہوسکا۔

’ میں چاہتا تھا کہ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہوتی یا کم ازکم فائنل میں پہنچتی لیکن اس ورلڈ کپ میں بیٹنگ ہماری سب سے بڑی کمزوری بن کر سامنے آئی اور ٹیم کا کوارٹر فائنل میں ہارنا میرے لیے مایوس کن ہے۔‘

مصباح الحق ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہیں گے لیکن وہ ون ڈے انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

’میں اپنی اننگز کھیل چکا، اب نوجوان کرکٹروں کی باری ہے۔ جب تک آپ ان پر ذمہ داری نہیں ڈالیں گے ان کی کارکردگی میں بہتری نہیں آئے گی اور اب وقت آ گیا ہے کہ ٹیم میں شامل نوجوان بیٹسمینوں پر ذمہ داری ڈالی جائے اور یہ ٹیم کو آگے لے کر چلیں۔ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اگلے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم ابھی سے تیار کرے۔‘

مصباح الحق نے 162 میچز پر مشتمل ون ڈے کریئر میں 40:43 کی اوسط سے5122 رنز بنائے جس میں 42 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ بغیر سنچری کے یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔ تو کیا انھیں اپنا کریئر بغیر سنچری پر ختم کرنے پر افسوس نہیں ہے؟

مصباح الحق کہتے ہیں: ’میری خواہش تھی کہ میں ون ڈے انٹرنیشنل میں سنچری سکور کرتا۔ اس کے لیے میں نے ہرممکن کوشش کی لیکن نہ ہوسکی جس کا افسوس رہے گا، اس کے باوجود میں اپنے کریئر سے خوش ہوں۔ میرے کریئر میں اتار چڑھاؤ رہے لیکن میں نہیں گھبرایا۔‘

اسی بارے میں