’آج وہاب ریاض کو گیند کرتے دیکھنے کا مزہ آ گیا‘

وہاب ریاض اور شین واٹسن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وہاب نے اپنے پہلے چھ اوورز میں دو وکٹ حاصل کیے اور ورلڈ کپ کی خطرناک ترین باؤلنگ کی

کرکٹ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پاکستان کے وہاب ریاض کی بولنگ کو ورلڈ کپ کی سب سے بہترین باؤلنگ میں سے ایک کہا جا رہا ہے۔

ریاض نے 54 رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن وہ اپنی ٹیم کو آسٹریلیا کے ہاتھوں چھ وکٹ کی شکست سے نہ بچا سکے۔

آسٹریلیا کے بیٹسمین شین واٹسن کہتے ہیں کہ ’وہاب ریاض جو کچھ کر سکتے تھے انھوں نے کیا۔ کئی گیندوں تو بہت خطرناک تھیں۔۔۔ میں خوش قسمت تھا کہ اس سپیل میں بچ گیا۔‘

آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک کہتے ہیں کہ انھوں نے بہت لمبے عرصے سے ایک روزہ میچوں میں اتنی اچھی باؤلنگ نہیں دیکھی۔

ریاض نے میچ میں دو حصوں میں کل نو اوور کیے۔ پہلے حصے میں انھوں نے چھ اوور کیے اور ڈیوڈ وارنر اور کلارک کو آؤٹ کیا۔ اس وقت آسٹریلیا کے پاکستان کے 213 کے جواب میں 59 سکور پر تین کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔

پاکستان کے کپتان مصباح الحق کہتے ہیں کہ وہاب نے پورے ورلڈ کپ میں اچھی باؤلنگ کی اور وہ بہت مختلف باؤلر ہیں۔ ’انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی کلاس دکھائی اور ایک وقت ایسا آ گیا تھا کہ ہم کھیل میں واپس آ چکے تھے۔‘

آسٹریلیا کے سابق کپتان ایلن بارڈر کہتے ہیں کہ ’میں نے ایک لمبے عرصے سے اتنا اچھا سپیل نہیں دیکھا۔ وہاب نے شاید ہی کوئی ہلکی گیند کی ہو گی۔‘

وہاب چار وکٹیں حاصل کر سکتے تھے اگر ان کی گیندوں پر دو کیچ نہ چھوڑے جاتے۔پہلا آسان کیچ راحت علی نے فائن لیگ پر چھوڑا جب واٹسن نے ابھی چار رنز ہی بنائے تھے۔ دوسرا کیچ جو میکس ویل کا تھا سہیل خان نے 154 کے سکور پر چھوڑا۔ اس وقت میکس ویل نے پانچ رنز بنائے تھے۔ واٹسن 64 رنز بنا کر جبکہ میکس ویل 44 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

ویسٹ انڈیز کے سابق بیٹسمین برائن لارا نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’آج وہاب ریاض کو گیند کرتے دیکھنے کا مزہ آ گیا۔ ان کے اعداد و شمار کبھی نہیں بتا پائیں گے کہ اس پاکستانی کی طرف سے تیز باؤلنگ کا کتنا اچھا سپیل کیا گیا تھا۔‘

مائیکل کلارک کہتے ہیں کہ اگر واٹسن کا وہ کیچ لے لیا جاتا تو کچھ پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔ ’یہ میچ یقینی طور پر بہت ہی قریب چلا جاتا۔‘

مصباح بھی کہتے ہیں کہ ’جس طرح وہ (وہاب) گیند کر رہا تھا وہ کیچ (میچ کے نتائج پر) فرق ڈال سکتا تھا۔‘

ریاض نے اس ورلڈ کپ میں 23 کی اوسط سے 16 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’وہ بہت اہم لمحہ تھا۔ ہم واٹسن کو آؤٹ کر لیتے اور ایک وکٹ لے کر آسٹریلیا پر مزید دباؤ ڈال سکتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہم نے آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کا کھیل دیکھا تھا اور میچ سے پہلے گفتگو کے دوران ایک منصوبہ بنایا تھا۔‘

’مجھے معلوم تھا کہ واٹسن شارٹ گیندوں کے خلاف بہتر نہیں کھیلتے اس لیے مجھے جارحانہ گیند کرنی تھی۔ یہ منصوبہ کافی حد تک کامیاب بھی رہا لیکن بدقسمتی سے ہم میچ نہ جیت سکے۔‘

اسی بارے میں