’وقار یونس کو عالمی کپ کبھی راس نہیں آیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کمر کی تکلیف کے باعث وقار یونس کو 199عالمی کپ میں شرکت سے محروم ہونا پڑا تھا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس کے لیے یہ عالمی کپ بھی خوشگوار ثابت نہ ہو سکا۔

وقار یونس کو اس عالمی کپ سے قبل بھی اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ عالمی کپ انہیں کبھی راس نہیں آیا۔

وہ اس میگا ایونٹ کو یادگار بنانے کی شدید خواہش رکھتے تھے لیکن پاکستانی ٹیم کوارٹر فائنل سے آگے نہ بڑھ سکی۔

وقاریونس نے1989 ء میں ایک ایسے بولر کےطور پر بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا تھا جس کی وجہ شہرت تیز رفتار سوئنگ بولنگ سے اسٹمپس کو اکھاڑ پھینکنے کے ساتھ ساتھ حریف بیٹسمینوں کے پیر زخمی کرنے کی تھی۔

وہ اپنی خطرناک یارکر کی وجہ سے ’ٹو کرشر‘ کے طور پر بیٹسمینوں کے لیے دہشت کی علامت تھے۔

لیکن ایک ایسے وقت میں جب وہ اپنے عروج پر تھے اور وسیم اکرم کے ساتھ ان کی جوڑی دنیا کے سب سے خطرناک بولنگ اٹیک کا روپ دھارچکی تھی وہ کمر کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے اور انہیں 1992 کے عالمی کپ میں شرکت سے محروم ہونا پڑا۔

1996 کے عالمی کپ میں وقاریونس کے لیے ابتدائی میچوں میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا اور انہوں نے پانچ میچوں میں 11 وکٹیں حاصل کرلی تھیں۔

تاہم پھر بھارت کے خلاف بنگلور میں کوارٹر فائنل میچ ان کے لیے ناخوشگوار ثابت ہوا جس میں وہ اجے جدیجہ کی جارحانہ بیٹنگ کی زد میں آئے جنہوں نے ان کے نویں اوور میں 18 اور آخری اوور میں 22 رنز بناڈالے۔

وکٹ کیپر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ انہوں نے وقاریونس کو پہلی بار آخری اوورز میں دباؤ میں دیکھا تھا۔

1999 کے عالمی کپ سے بھی وقاریونس کی خوشگوار یادیں وابستہ نہیں ہیں۔

اگرچہ پاکستانی ٹیم اس ورلڈ کپ کا فائنل کھیلی لیکن وقاریونس کے لیے وہ صرف ایک میچ کا عالمی کپ ثابت ہوا۔

وہ جس واحد میچ میں کھیلے اسے یقیناً یاد نہیں رکھنا چاہیں گے کیونکہ وہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ تھا جس میں پاکستانی ٹیم شکست سے دوچار ہوئی تھی۔

یہ شکست جان بوجھ کر ہارنے کے الزامات کی وجہ سے متنازع بن گئی تھی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کی تحقیقات کے لیے ’بھنڈاری کمیشن‘ بنانا پڑا تھا۔

وقار یونس نے اس میچ میں عمدہ بولنگ کرتے ہوئے نو اوورز میں 36 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں لیکن اس کے باوجود وہ اگلے کسی بھی میچ کے لیے ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وقار یونس پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ بنے لیکن 2007 کے عالمی کپ سے قبل انہوں نے اس عہدے سے استعفی دے دیا

2003 کے عالمی کپ میں وقار یونس پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے لیکن اس موقع پر اس طرح کی خبریں بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم اکرم کو کپتان بنانا چاہتا ہے جن کے بارے میں جسٹس قیوم رپورٹ میں یہ واضح کردیا گیا تھا کہ انہیں مستقبل میں کپتانی نہ دی جائے۔

پاکستانی ٹیم عالمی کپ میں آسٹریلیا انگلینڈ اور بھارت جیسی بڑی ٹیموں سے ہار کر گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی اور خود وقاریونس کی بولنگ بھی خاصی مایوس کن رہی۔

آسٹریلیا کے خلاف میچ میں انہیں امپائر ڈیوڈ شیپرڈ نے اینڈریو سائمنڈز کو بیمر کرانے کی پاداش میں بولنگ سے روک دیا۔

بھارت کے خلاف اہم میچ میں اگرچہ انہوں نے لگاتار گیندوں پر سہواگ اور گنگولی کو آؤٹ کردیا لیکن اس کے بعد وہ خاصے مہنگے ثابت ہوئے۔

اس عالمی کپ کے ساتھ ہی وقار یونس کا بین الاقوامی کریئر بھی اختتام کو پہنچا۔

2006 میں وہ پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ بنے لیکن 2007 کے عالمی کپ سے قبل انہوں نے اس عہدے سے استعفی دے دیا۔

وہ اس وقت کے کپتان انضمام الحق سے بھی سخت ناخوش تھے بقول ان کے انضمام الحق ان کی جگہ مشتاق احمد کو بولنگ کوچ بنانا چاہتے تھے۔

وقاریونس 2011 کے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کے کوچ تھے اور یہاں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل تک پہنچی جہاں اسے بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں