پہلا سیمی فائنل:سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ فاتح

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیوزی لینڈ کے کھلاڑی ایلیٹ اور وٹوری فتح گر چھکے کے بعد خوشی سے جھوم اٹھے

کرکٹ ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کے خلاف بارش سے متاثرہ میچ میں 43 اووروں میں 298 رنز کا ہدف ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک گیند قبل حاصل کر لیا۔

اس فتح کے معمار گرانٹ ایلیٹ تھے جنھوں نے 73 گیندوں پر 84 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

اس میچ میں جنوبی افریقہ کی فیلڈنگ انتہائی ناقص رہی اور انھوں نے کئی یقینی کیچ گرائے اور رن آؤٹ کے مواقع گنوائے۔ میچ کے اختتام پر جنوبی افریقہ کے کئی کھلاڑیوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جب کہ سٹیڈیم میں موجود نیوزی لینڈ کے ہزاروں حامیوں نے اپنی ٹیم کی فتح کا جشن منانا شروع کر دیا۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

نیوزی لینڈ کی چار وکٹیں گرنے کے بعد کوری اینڈرسن اور گرانٹ ایلیٹ کی درمیان 103 رنز کی شاندار شراکت ہوئی جس نے نیوزی لینڈ کو فتح کی راہ پر گامزن کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیوزی لینڈ کے کپتان نے انتہائی طوفانی انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقی بولروں کے چھکے چھڑا دیے

اینڈرسن مورکل کی گیند پر 58 رنز بنا کر ڈوپلیسی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ انھوں نے 56 گیندوں کا سامنا کیا تھا۔ ان کے بعد لوک رونکی ڈیل سٹین کی گیند پر چھکا لگانے کی کوشش میں آؤٹ ہو گئے۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ نے اپنی اننگز کے اختتام پر 43 اووروں میں 281 رنز بنائے تھے، لیکن ڈک ورتھ لیوس سسٹم کے تحت نیوزی لینڈ کا ہدف 298 رنز مقرر کیا گیا۔

نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کلم نے انتہائی طوفانی اننگز کھیلتے ہوئے صرف 26 گیندوں پر 59 رنز بنائے۔ انھوں نے ڈیل سٹین کے ایک اوور میں 25 رنز بنائے۔ انھیں ڈیل سٹین نے مورنے مورکل کی گیند پر کیچ آؤٹ کیا۔ ان کے بعد نیوزی لینڈ کے سب سے قابلِ اعتماد بیٹسمین کین ولیمسن صرف چھ رنز بنا کے مورکل ہی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

مارٹن گپٹل نے 34 رنز بنا کر اننگز کو استحکام بخشنے کی کوشش کی لیکن وہ ایک تیز رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے۔ ان کے بعد راس ٹیلر ایک محتاط اننگز کھیلنے کے بعد 30 رنز بنا کر جے پی ڈمنی کی گیند پر وکٹ کیپر ڈی کوک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اس سے قبل ٹاس جیتنے کے بعد جنوبی افریقہ کی نیوزی لینڈ کے خلاف بیٹنگ جاری تھی کہ 38 اووروں کے اختتام پر بارش کے باعث کھیل روکنا دینا پڑا اور ڈک ورتھ لوئس سسٹم حرکت میں آ گیا۔ وقت ضائع ہونے کے باعث کھانے کا وقفہ بھی مختصر کر کے دس منٹ کا کر دیا گیا۔

جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈیویلیئرز انتہائی جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 45 گیندوں پر 65 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ کھیل کے اختتامی لمحات میں ڈیوڈ ملر نے تباہ کن بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 18 گیندوں پر 49 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔ انھیں اینڈرسن نے آؤٹ کیا۔ جے پی ڈمنی چار گیندوں پر آٹھ رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

بارش کے بعد کھیل جب دوبارہ شروع ہوا اس وقت جنوبی افریقہ کا سکور تین وکٹوں کے نقصان پر 216 رنز تھا، تاہم سکور میں صرف ایک رن کے اضافے کے فاف ڈوپلیسی 82 رنز بنا کر اینڈرسن کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اس میچ میں نیوزی لینڈ کی فیلڈنگ خاصی غیر معیاری رہی اور انھوں نے کئی کیچ اور رن آؤٹ کے موقعے ضائع کیے۔ ولیمسن نے دو اووروں میں اے بی ڈیویلیئرز کو آؤٹ کرنے کے دو مواقع ضائع کیے۔

نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ میں کھیلے جانے والے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ہاشم آملا اور کوئنٹن ڈی کوک نے اننگز کا آغاز کیا اور 21 کے مجموعی سکور پر آملا بولٹ کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ اس وقت ان کا سکور دس رنز تھا جس میں دو چوکے شامل تھے۔

ہاشم آملہ کے آؤٹ ہونے کے بعد ابھی مجموعی سکور میں دس رنز کا اضافہ ہی ہوا تھا کہ ڈی کوک نے بولٹ کی گیند پر چھکا لگانے کی کوشش کی لیکن باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ڈوپلیسی اور رائلی روسو نے محتاط انداز میں بیٹنگ شروع کی اور سکور کو 114 تک پہنچا دیا مگر اس سکور پر روسو کوری اینڈرسن کی گیند پر مارٹن گپٹل کے ہاتھوں پوائنٹ پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیمی فائنل جیتنے والی ٹیم کا مقابلہ فائنل میں آسٹریلیا یا بھارت سے ہو گا

دونوں ٹیموں نے اس سے پہلے کبھی ورلڈ کپ کا فائنل نہیں کھیلا ہے۔

سیمی فائنل جیتنے والی ٹیم کا مقابلہ فائنل میں آسٹریلیا یا بھارت سے ہو گا۔

اس ورلڈ کپ میں آک لینڈ کے میدان میں جنوبی افریقہ کو پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ نیوزی لینڈ نے ایک دلچسپ میچ میں آسٹریلیا کو ایک وکٹ سے شکست دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بولٹ نے جنوبی افریقہ کے دونوں اوپنرز کو آؤٹ کیا

دونوں ٹیموں نے ایک ایک تبدیلی کی ہے۔ نیوزی لینڈ نے انجری کے سبب ورلڈ کپ سے باہر ہونے والے فاسٹ بولر ایڈم ملن کی جگہ میٹ ہنری کو ٹیم میں شامل کیا ہے جبکہ جنوبی افریقہ نے کیل ایبٹ کی جگہ ورنن فلینڈر کو ترجیح دی ہے۔

کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ نے ویسٹ انڈیز کو143 رنز سے شکست دی تھی جبکہ جنوبی افریقہ نے سری لنکا کو ایک یک طرفہ مقابلے کے بعد نو وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی تھی۔

آک لینڈ میں سیمی فائنل سے پہلے تین میچ کھیلے گئے ہیں۔ بھارت نے زمبابوے کو شکست دی جبکہ پاکستان نے بارش سے متاثرہ میچ میں جنوبی افریقہ کو شکست دی۔ تیسرے میچ نیوزی لینڈ نے ایک دلچسپ میچ میں آسٹریلیا کو ایک وکٹ سے ہرایا تھا۔

اسی بارے میں