شائقین کے نیلے سمندر میں بھارتی امید ڈوب گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لٹل انڈیا کا نقشہ پیش کرنے والے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں شائقین کے نیلے سمندر میں بھارتی امید ڈوب گئی

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ میں ناقابل شکست رہنے والی بھارتی ٹیم پہلی ہی شکست کھاکر عالمی اعزاز سے محروم ہوگئی ۔ جہاں آسٹریلوی پیس بیٹری نے ہدف عبور کرنے میں شہرت رکھنے والی بھارتی بیٹنگ کے ستون ایک ایک کرکے گرادیے۔

29 مارچ کو میلبرن میں کھیلے جانے والے فائنل میں اب آسٹریلیا کا مقابلہ عالمی کپ کے مشترکہ میزبان نیوزی لینڈ سے ہوگا۔

آسٹریلوی ٹیم نے جب بھی عالمی کپ کا سیمی فائنل کھیلا ہے اسے ہمیشہ جیت کر فائنل کی طرف قدم بڑھایا ہے اور چھ فائنلز میں سے چار میں وہ فاتح عالم بنی ہے ۔

پچھلے چند دنوں سے سڈنی کی وکٹ کے ممکنہ طور پر اسپنرز کی مددگار ہونے کی بحث جاری تھی لیکن یہ وکٹ بیٹنگ کے لیے آئیڈیل ثابت ہوئی جس پر آسٹریلوی ٹیم نے ٹاس جیتنے کے بعد 328 رنز کا اطمینان بخش اسکور بنالیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ویراٹ کوہلی پاکستان کے خلاف سنچری کے بعد سات میچوں میں ایک نصف سنچری تک نہ بناسکے

تاہم جب بھارتی بیٹنگ آئی تو شیکھر دھون اور روہیت شرما کے چھہتر رنز کے اچھے اوپننگ اسٹینڈ کے باوجود مڈل آرڈر بیٹنگ توقعات پر پورا نہ اترسکی۔

شیکھر دھون ہیزل ووڈ کی وکٹ بنے۔

مچل جانسن نے صرف دس گیندوں میں ویراٹ کوہلی اور روہیت شرما کو پویلین بھجواکر میدان میں موجود بھارتی شائقین کی بہت بڑی تعداد پر جیسے بجلی گرادی۔

ویراٹ کوہلی پاکستان کے خلاف سنچری کے بعد سات میچوں میں ایک نصف سنچری تک نہ بناسکے۔

راہانے اور دھونی نے ڈوبتی نیا کو سہارا دینے کی کوشش میں پانچ رنز کی اوسط سے رنز بناتے ہوئے 70 رنز کی شراکت قائم کی جو راہانے کے خلاف وکٹ کیپر کے کیچ پر لیے گئے ریویو کے نتیجے میں ختم ہوئی۔

کپتان مہندر سنگھ دھونی کی مزاحمت صرف شکست کا فرق ہی کم کرسکی لیکن بھارتیوں کے چہرے پر مسکراہٹ واپس نہ لاسکی۔

اس سے قبل آسٹریلوی اننگز میں بھی کئی اتارچڑھاؤ آئے۔ڈیوڈ وارنر کی وکٹ جلد گرنے کے بعد اسٹیو اسمتھ اور ایرون فنچ نے 182 رنز کی عمدہ شراکت کے ذریعے ایک بڑے اسکور کی امید پیدا کردی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سٹیو سمتھ نے اپنے کریئر کی پانچویں اور رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی اننگز کھیلی

فنچ جو انگلینڈ کے خلاف سنچری کے بعد اگلی پانچ اننگز میں صرف 64 رنز بناسکے تھے 81 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے۔

سٹیو سمتھ جو پچھلے میچوں میں تین نصف سنچریوں کو سنچری میں نہیں بدل سکے تھے اپنے کریئر کی پانچویں اور رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی اننگز کھیل کر 105 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے۔

بھارتی بولنگ اسوقت سراٹھاتی ہوئی نظر آئی جب اس نے صرف چھ گیندوں کے فرق سے ایرون فنچ اور گلین میکسویل کی وکٹیں حاصل کرڈالیں لیکن فاکنر اور جانسن کی جارحانہ بیٹنگ کے نتیجے میں بھارتی بولنگ آخری اوورز میں اپنی گرفت مضبوط نہ رکھ سکی۔

مچل جانسن نے صرف نو گیندوں پر چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 27 رنز بنائے۔

بھارتی بولرز نے آخری پانچ اوورز میں 57 رنز دیے۔

امیش یادو نے مسلسل دوسرے میچ میں چار وکٹیں حاصل کیں لیکن 72 رنز دینے کے بعد۔

موہیت شرما اور شامی بھی رنز کی رفتار کو قابو نہ کرسکے۔

اسی بارے میں