جارحانہ بلے بازی، قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس عالمی کپ میں اب تک کرس گیل اور مارٹن گپتل ڈبل سنچری سکور کر چکے ہیں

کرکٹ ورلڈ کپ میں بلے بازوں کی جانب سے رنزوں کے انبار کا سلسلہ جاری ہے اور بلے باز میدان کے چاروں جانب چھکے اور چوکے لگا کر بولرز کی دھنائی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

دنیا کے بہترین بلے باز چھوٹے گراؤند اور بڑے کرکٹ بیٹس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اب تک 450 چھکے لگا چکے ہیں۔ جس سے شائقین کرکٹ خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

گزشتہ دس عالمی مقابلوں میں کسی بھی بلے باز نے ڈبل سنچری سکور نہیں کی تھی اور صرف ایک ہی بار کسی ٹیم کی جانب سے 400 کا بڑا سکور دیکھنے کو ملا تھا۔

تاہم اس عالمی کپ میں اب تک کرس گیل اور مارٹن گپتل ڈبل سنچری سکور کر چکے ہیں جبکہ ٹیموں کی جانب سے تین بار 400 کا ہندسہ عبور کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب بولرز کے لیے یہ عالمی کپ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا ہے اور ٹرینٹ بولٹ واحد بولر ہیں جو اب تک اس ٹورنامنٹ میں 20 سے زیادہ وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس سنہ2007 میں ہونے والے عالمی کپ میں چار بولرز نے 20 سے زائد وکٹیں حاصل کی تھیں۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن کا کہنا ہے کہ تیز اور چھوٹے فارمیٹ یعنی T20 کے بڑھنے سے کرکٹ کے دوسرے فارمیٹ پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ڈیو رچرڈ سن کا کہنا ہے ’ میرے خیال میں قوانین میں تبدیلی سے مدد ملی ہے اور جس طرح T20 نے ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ پر اثرات ڈالے ہیں اس سے بلے باز پہلے سے زیادہ جارحانہ ہو گئے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب کپتان بھی زیادہ جارحانہ سوچ کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں اور وکٹیں لینے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ سکور بورڈ پر بھی نظر رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرینٹ بولٹ واحد بولر ہیں جو اب تک اس ٹورنامنٹ میں 20 سے زیادہ وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے ہیں

تاہم رچرڈسن اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بیٹ اور بال کے درمیان پلڑا بلے بازوں کی جانب زیادہ جھکتا جا رہا ہے۔ جس کے لیے قوانین میں کچھ ایسی تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے جس سے بولرز کو بھی موقع مل سکے۔

اس سلسلے میں انھوں نے یہ تجویز دی ہے کہ آخری دس اووروں میں جب بلے باز زیادہ تیزی سے رنز بناتے ہیں پانچ فیلڈرز کو دائرے سے باہر کھڑے کرنے کی اجازت دی جائے۔

موجودہ قوانین کے تحت فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کو آخری دس اووروں میں صرف چار کھلاڑی دائرے سے باہر کھڑے کرنے کی اجازت ہے۔

رچرڈسن کا کہنا تھا ’جس ایک چیز پر ہم کام کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ آخری دس اووروں میں ایک اضافی فیلڈر کو دائرے سے باہر کھڑا کرنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم اننگ کا درمیانی حصہ بھی ہمارے لیے پریشانی کا باعث ہے جب کھیل سست ہو جاتا ہے اور اگر کوئی بلے باز 50 گیندوں پر 50 رنز بھی بنا لے تو کوئی بھی اس کے کسی ایک بھی سٹروک کو یاد نہیں رکھتا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایک اضافی فیلڈر کو دائرے سے باہر کھڑے کرنے کی اجازت دینا سمجھدار تبدیلی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں