’زندگی شاید اور میچ دیکھنے کا موقع نہ دے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ایکیویٹ لیمفوفا کےصرف پانچ فیصد مریض ایک سال کےعرصے تک جی پاتے ہیں: مارٹن کرو

کینسر کے موذی مرض میں مبتلا نیوزی لینڈ کے سابق کپتان مارٹن کرو نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ فائنل شاید ان کی زندگی کا آخری میچ ہوگا جسے وہ دیکھ پائیں گے۔

مارٹن کرو کینسر کے موذی مرض لیمفوما میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے انھیں بتایا ہے کہ انھیں جو مرض لاحق ہے اس کے صرف پانچ فیصد مریض ایک سال کے عرصے تک زندہ رہ پاتے ہیں۔

باون سالہ مارٹن کرو اتوار کے روز میلبرن کرکٹ گراونڈ پر موجود ہوں گے جہاں ان کے ہم وطن پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلیں گے۔

مارٹن کرو نے خود ورلڈ کپ کے اکیس میچوں میں 55 کی اوسط سے 880 رنز سکور کیے۔

مارٹن کرو نے کرک انفو کو بتایا کہ ’میری آگے کی نازک زندگی شاید مجھے کوئی اور میچ دیکھنے اور لطف اندوز ہونے کی عیاشی کا موقع فراہم نہ کرے۔ یہ بہت ممکن ہے اور میں اس حقیقت کے ساتھ بخوشی رہ سکتا ہوں۔‘

مارٹن کرو نے 1992 ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی قیادت کی تھی اور ان کی ٹیم سیمی فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی تھی۔ مارٹن کرو نے ہمسٹرنگ ہونے کے باوجود نوے رنز سکور کیے تھے۔پاکستان نے نہ صرف نیوزی لینڈ کو ہرا دیا بلکہ انھوں نے فائنل میں انگلینڈ کو ہرا کر پہلی ورلڈ کپ جیت لیا تھا۔

مارٹن کرو نیوزی لینڈ کے دوسرے کامیاب ترین بیٹسمین ہیں اور انھوں نے 45 کی اوسط سے 5444 رنز بنائے۔

نیوزی کی موجودہ ٹیم میں دو ایسے کھلاڑی بھی ہیں جن کی کامیابی میں مارٹن کرو کا بھی ہاتھ ہے۔ مارٹن گپٹل اور راس ٹیلر وہ کھلاڑی ہیں جن پر مارٹن کرو نے بہت محنت کی ہے۔ یہ وہی مارٹن گپٹل ہیں جنہوں نے رواں ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ناقابل فراموش ناٹ آؤٹ ڈبل سنچری سکور کی تھی۔

ان دونوں کھلاڑیوں کی موجودہ فارم نے مارٹن کرو کو موذی مرض سے لڑنے کا حوصلہ دیا ہے۔

’ان دو بیٹوں جنہیں میں نے پیدا نہیں کیا، راس ٹیلر اور مارٹن گپٹل کو سیاہ کٹ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میدان میں اترنے کا عمل دیکھنا میرے لیے بہت اطمینان کا باعث ہو گا۔میں سارا دن اپنے آنسوؤں کو روکے رکھوں گا۔ میری حالت نروس والدین کی طرح کی ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مارٹن کرو کا شمار اپنے عہد کے کامیاب ترین بلے بازوں میں ہوتا تھا

’اگر نیوزی لینڈ جیت جاتا ہے تو پہلی مرتبہ ہوگا جب وہ ملک کی رگبی ٹیم کے سایے سے باہر آئے گی۔ یہ اعزاز شاید ان کے پاس تھوڑا ہی عرصہ رہے کیونکہ آل بلیک ایک بار پھر ستمبر میں رگبی ورلڈ کپ کا دفاع کرنے کے لیے انگلینڈ روانہ ہو جائیں گے۔‘

دو سال قبل مارٹن کرو کو لیمفوفا کینسر میں مبتلا ہونے کا پتہ چلا۔علاج کے بعد ان کا مرض دب گیا تھا لیکن گزشتہ ستمبر وہ ایک بار نمودار ہوگیا اور اب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں۔ مارٹن کرو بتاتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے انھیں بتایا ہے کہ ایکویٹ لیمفوفا کےصرف پانچ فیصد مریض ایک سال کے عرصے تک جی پاتے ہیں۔

مارٹن کرو نے دوسری بار لیمفوفا کے نمودار ہونے کے بعد کیموتھراپی علاج سےانکار کیا ہے اورقدرتی طریقوں سے اس موذی مرض کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔