’کئی ماہ کرکٹ سے دور رہنا اذیّت سے کم نہیں تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دورہ بنگلہ دیش کے لیے سعید اجمل ون ڈے، ٹیسٹ اور ٹی ٹوینٹی سکورڈ میں شامل ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم میں واپسی کے بعد مشہور آف سپنر سعید اجمل کا کہنا ہے کئی ماہ تک بین الاقوامی کرکٹ سے دور رہنا کسی ’اذیّت‘ سے کم نہیں تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستانی آف سپبر سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور گذشتہ سال اگست میں اُن پر پابندی عائد کر دی تھی۔

آئی سی سی نے سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن درست قرار دیا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سعید اجمل نے کہا کہ وہ ٹیم میں واپسی پر بہت خوش ہیں اور ’کرکٹ کھیلے بغیر میں اپنے آپ کو اذیّت میں محسوس کر رہا تھا۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے دورے کے لیے ٹیم کا اعلان کیا ہے اور سعید اجمل ون ڈے، ٹیسٹ اور ٹی ٹوینٹی سکواڈ میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’آٹھ ماہ تک شدید تکلیف برداشت کی ہے اور یہ میری زندگی کا مشکل ترین دور تھا۔‘

سعید اجمل نے پاکستان کے سابق آف سپنر ثقلین مشتاق کی نگرانی میں بولنگ ایکشن تبدیل کرنے کے لیے یریکٹس کی۔ جس کے بعد رواں سال فروری میں سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کا بائیو میکنک ٹیسٹ ہوا اور آئی سی سی نے اُن کا ایکشن درست قرار دیا۔

آئی سی سی کی پابندی کی وجہ سے سعید اجمل ورلڈ کپ 2015 میں بھی حصہ نہیں لے سکے۔

ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے کے حوالے سے سعید اجمل نے کہا کہ ’45 دن ٹی وی پر ورلڈ کپ دیکھا، دل چاہتا تھا کہ ٹی وی کے اندر داخل ہو جاؤں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ شامل ہو کر کچھ کروں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے لگا کہ میری ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور خاص کر پاور پلے کے دوران جب میں عموماً وکٹیں لیتا ہوں اور ہماری ٹیم اسی میں پیچھے رہی۔‘

اجمل نے کہا کہ وہ ورلڈ کپ کے دوران کپتان مصباح الحق سے رابطے میں تھے اور ٹیم کی حوصلی افزائی کرتے تھے۔

’اس کے باوجود بھی ٹیم سے دور رہنا بہت مشکل تھا۔‘

سعید اجمل نے کہا کہ وہ ٹیم میں واپسی پر بہت خوش ہیں اور وہ پہلے کی طرح عوام کی توقعات پر پوار اترنے کے لیے پرامید ہیں۔

سعید اجمل نے ٹیسٹ کرکٹ میں 178، ون ڈے میں 183 اور ٹی ٹوئنٹی میں85 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر ہیں۔

سعید اجمل اب بھی آئی سی سی کی عالمی ون ڈے رینکنگ میں دوسرے اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پانچویں نمبر پر ہیں۔

اسی بارے میں