افغان امپائروں کے لیے تربیتی کورس

Image caption افغانستان نے کرکٹ میں بہت کم عرصے میں ترقی کی ہے تاہم یہ ترقی کھلاڑیوں کی حد تک بہت زیادہ ہے امپائرنگ میں وہ آہستہ آہستہ آگے آ رہے ہیں کیونکہ افغانستان نے امپائرنگ پر توجہ تاخیر سے دی ہے: محبوب شاہ

ایشین کرکٹ کونسل کے زیرِ اہتمام افغانستان کے کرکٹ امپائروں کے دو کورس اس ماہ مزار شریف اور کابل میں ہو رہے ہیں جن کی نگرانی پاکستان کے سابق امپائر محبوب شاہ کریں گے۔

محبوب شاہ نے کابل روانگی سے قبل بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ افغانستان میں کرکٹ امپائروں کی تربیت ایشیئن کرکٹ کونسل کی ذمہ داری ہے اور یہ دو کورس اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

محبوب شاہ 28 ٹیسٹ اور 32 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ دونوں لیول ون کے کورس ہیں۔ پہلا کورس 11 اپریل سے مزارشریف میں ہو گا جبکہ کابل میں دوسرا کورس17 اپریل سے منعقد کیا جائے گا۔

سنہ 1987 کے عالمی کپ کے فائنل میں امپائرنگ کرنے والے محبوب شاہ نے کہا کہ ان کورسوں میں افغانستان کے 30 سے زائد امپائر شرکت کریں گے اور ان میں جو بھی امپائر کامیاب ہوں گے وہ لیول ٹو کے کورس میں شرکت کےاہل ہوں گے۔

انھوں نےکہا کہ لیول ٹو کے کورس میں کامیاب ہونے والے امپائروں کو ایشیئن کرکٹ کونسل کے بین الاقوامی میچوں میں امپائرنگ کا موقع دیا جاتا ہے۔

محبوب شاہ نے کہا کہ اس وقت افغانستان کے چار امپائر لیول ٹو کا کورس مکمل کرنے کے بعد امپائرنگ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان نے کرکٹ میں بہت کم عرصے میں ترقی کی ہے تاہم یہ ترقی کھلاڑیوں کی حد تک بہت زیادہ ہے، امپائرنگ میں وہ آہستہ آہستہ آگے آ رہے ہیں کیونکہ افغانستان نے امپائرنگ پر تاخیر سے توجہ دی ہے۔

ان کے مطابق افغانستان کے امپائروں کا سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہے اور جو امپائر انگریزی زبان پر عبور حاصل کرتے ہیں وہی آگے بڑھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں