ایک بولنگ سپیل نے سب کچھ بدل دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عالمی کپ کے بعد وہاب ریاض خود میں بلا کا اعتماد محسوس کر رہے ہیں

عالمی کپ میں شین واٹسن کو کٹھ پتلی تماشا بنانے والے وہاب ریاض کے بولنگ سپیل نے 80 کی دہائی میں عمران خان کی بھارت کے خلاف طوفانی بولنگ ، 90 کی دہائی میں وسیم اکرم کی سوئنگ اور وقار یونس کی حریف بیٹسمینوں کے پنجوں کو مجروح کرنے والے خوفناک یارکروں کی یاد دلا دی ہے۔

اس بولنگ سپیل نے شعیب اختر کی بولنگ پر سورو گنگولی کی پسلیوں کے زخم بھی تازہ کر دیے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ وہاب ریاض کے اس ایک سپیل کا سحر یا خوف بیٹسمینوں پر تادیر قائم رہ سکے گا؟

اس کا جواب تو خود وہاب ریاض کے پاس ہے کہ وہ آنے والے میچوں میں بولنگ میں کتنی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں، تاہم عالمی کپ کے بعد وہاب ریاض خود میں بلا کا اعتماد محسوس کر رہے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کو ایسے ہی پر اعتماد بولر کی ضرورت ہے جو حریف بیٹسمین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے وکٹ ہتھیا سکے۔

وہاب ریاض عالمی کپ کی عمدہ کارکردگی کو بنگلہ دیشی دورے میں بھی جاری رکھنے کے سلسلے میں خاصے پرعزم ہیں۔

وہاب ریاض نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ شائقین ان کی بولنگ میں مثبت تبدیلی دیکھیں گے۔

’ کوارٹرفائنل کے بعد کرکٹروں اور مبصرین نے جس طرح میری تعریف کی ہے اس سے میرا حوصلہ بڑھا ہے، اس پذیرائی نے مجھ میں ذمہ داری کا نیا احساس پیدا کیا ہے۔ یقیناً اس سے میری بولنگ میں بہت مثبت فرق آئے گا۔‘

Image caption سینیئر بولر ہونے کا احساس آپ کو زیادہ ذمہ دار بناتا ہے: وہاب ریاض

وہاب ریاض اپنے بارے میں برائن لارا کے تعریفی کلمات کو بہت بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔

’میں اپنے بچپن سے برائن لارا کو دیکھتا آیا ہوں۔ وہ میرے پسندیدہ بیٹسمینوں میں سے ایک رہے ہیں اور مجھے یہ جان کر بہت زیادہ خوشی ہوئی کہ انہوں نے نہ صرف میرے سپیل کی تعریف کی بلکہ میرا جرمانہ بھی ادا کرنے کی پیشکش کر ڈالی۔‘

وہاب ریاض سینیئر بولر ہونے کی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہیں اور اسے نبھانے کے لیے بھی تیار ہیں۔

’سینیئر بولر ہونے کا احساس آپ کو زیادہ ذمہ دار بناتا ہے اور سب نے دیکھا کہ ورلڈ کپ میں میری کارکردگی اچھی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مجھے جو ذمہ داری سونپی گئی تھی اسے میں نے نبھانے کی پوری کوشش کی اور میں آئندہ بھی اس چیلنج کے لیے تیار ہوں۔‘

واضح رہے کہ ورلڈ کپ میں وہاب ریاض نے 16 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

اسی عالمی کپ میں انھوں نے زمبابوے کے خلاف مشکل حالات میں نصف سنچری بھی سکور کی تو کیا یہ سمجھا جائے کہ آپ آل راؤنڈر بنتے جارہے ہیں؟

’ایک یا دو اننگز کھیلنے سے کوئی آل راؤنڈر نہیں بن جاتا، اس کے لیے مستقل مزاجی سے رنز کرنے ہوتے ہیں، تاہم میں اپنی بیٹنگ پر بھی توجہ دے رہا ہوں اور کوچز بھی مجھ پر محنت کر رہے ہیں۔ زمبابوے کے خلاف نصف سنچری سکور کرنے کی خوشی ہے کیونکہ ٹیم اس وقت بہت مشکل میں تھی اور میں نے وہ اننگز کھیلی۔‘

وہاب ریاض کو یاد دلایا کہ سنہ 2011 کے عالمی کپ کے سیمی فائنل میں پانچ بھارتی بیٹسمین آؤٹ کیے لیکن اس کے بعد کارکردگی میں تسلسل کیوں دیکھنے میں نہیں آیا؟

’موہالی کے بعد ہماری زیادہ تر کرکٹ متحدہ عرب امارات میں رہی جہاں کی وکٹیں زیادہ تر سپنروں کو مدد دیتی ہیں اور ہمارے پاس سعید اجمل جیسا میچ ونر موجود تھا، لہٰذا فاسٹ بولروں پر زیادہ دباؤ نہیں آیا تھا۔‘

وہاب ریاض کے خیال میں وقاریونس کے کوچ ہونے کا انھیں بہت فائدہ ہوا ہے۔

’وہ اپنا وسیع تجربہ تمام بولروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہمیں فاسٹ بولنگ کے گُر سکھائیں جس سے ٹیم کو فائدہ پہنچے۔ ان کی ٹیم میں موجودگی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔‘

وہاب ریاض کے خیال میں عصرحاضر کی ون ڈے کرکٹ بیٹسمینوں کی کرکٹ بنی ہوئی ہے لیکن اب وہ اس صورت حال کے عادی ہوگئے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ حالات جیسے بھی ہوں انھیں وکٹ حاصل کرنی ہے۔

اسی بارے میں