اترپردیش کی 80 سالہ ’ریوالور رانی‘

Image caption دونوں سے ہارنے والے مرد ان کے ساتھ مقابلوں میں حصہ لینے سے بھی كترانے لگے

شوٹنگ یا نشانہ بازی ایسا کھیل ہے جس میں بھارت نے عالمی مقابلوں میں سب سے زیادہ میڈل جیتے ہیں۔

اسے نوجوانوں کا کھیل سمجھا جاتا ہے اور اس میں مردوں کی شرکت، خواتین کے مقابلے کافی زیادہ رہی ہے۔

لیکن ریاست اترپردیش کے گاؤں جوہڑي کی دو خواتین ایسی ہیں جنہوں نے بندوق تھامي ہی 60 سال کی عمر کے بعد لیکن جب تھامي تو زونل اور قومی سطح پر کئی میڈل جیتے۔

82 سالہ چندرو اور 74 سال کی پركاشي تومر ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور دونوں کی اس کھیل میں شمولیت کی وجہ ان کے پوتے پوتياں تھے۔

چندرو، پركاشي تومر کی جٹھاني ہیں اور فی الحال سرسا کے کالجوں میں لڑکے لڑکیوں کو نشانے بازي سکھاتی ہیں۔

نشانہ بازی کی شروعات کے بارے میں چندرو بتاتی ہیں کہ ’میں 65 سال کی تھی جب میں نے پہلی بار بندوق تھامي۔ میں اپنی پوتی شیفالي کو شوٹنگ رینج پر لے کر گئی تھی۔ بچوں کو دیکھ کر میں نے بھی بندوق اٹھا لی۔ میرا نشانہ درست لگا۔ وہاں موجود انسٹرکٹر اس سے کافی متاثر ہوئے اور انھوں نے میری حوصلہ افزائی کی۔‘

Image caption ان دونوں خواتین کی کوچنگ سے کئی بچے قومی سطح کے نشانے باز بن چکے ہیں

جب ان دونوں خواتین نے نشانہ بازی شروع کی تو انہیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا اور دونوں جب بھی رینج پر مشق کے لیے نكلتيں تو گاؤں کے مرد ان کا مذاق اڑاتے۔

پركاشي کہتی ہیں، ’گاؤں کے آدمی ہمیں کہتے تھے کہ یہ بڑھیائیں کارگل میں جائیں گی۔ یہ اس عمر میں كھیلیں گي۔ میں اور میری جٹھاني چندرو چھپ چھپ کر مشق کے لیے جاتے تھے۔‘

ان کے مطابق ’ہم گاؤں کی دیگر عورتوں کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں لیکن کوئی بھی ہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ تاہم چیزیں تب بدلیں جب ہم نے میڈل جیتے اور ہماری تصاویر اخباروں میں آنے لگیں۔‘

چندرو اور پرکاشی نے 1999 سے 2013 کے درمیان ’ویٹرن کیٹیگری‘ میں کئی میڈل جیتے ہیں۔ اس زمرے میں خواتین کم اور مرد نشانے بازی زیادہ ہوتے ہیں۔

Image caption چندرو اور پرکاشی نے 1999 سے 2013 کے درمیان ’ویٹرن کیٹیگری‘ میں کئی میڈل جیتے ہیں

اس کے باوجود دونوں نے کئی طلائی، نقرئی اور کانسی کے تمغے جیتے اور پھر دونوں سے ہارنے والے مرد ان کے ساتھ مقابلوں میں حصہ لینے سے بھی كترانے لگے۔

کئی بار تو وہ ہارنے کے بعد ان دونوں کے ساتھ تصاویر کھنچوانے سے بھی انکار کر دیتے تھے۔

آج انھی دونوں کی کوچنگ سے کئی بچے قومی سطح کے نشانے باز بن چکے ہیں۔

چندرو بتاتی ہیں، ’گاؤں کے بچے غنڈہ گردي چھوڑ کر صحیح راستے پر آ گئے ہیں۔ کئی بچوں نے نشانے بازي کی بنیاد پر سرکاری نوکریاں بھی حاصل کر لی ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں، ’میں نے پٹنہ اور امیٹھی میں 80 بچوں کو تربیت دی ہے اور اب یہ سب بچے قومی سطح پر کھیل رہے ہیں۔‘