سیریز بھی ہاتھ سے گئی اب وائٹ واش کی فکر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بنگلہ دیش نے ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز اپنے نام کر لی ہے

وہی میدان وہی نتیجہ۔

فرق صرف یہ ہے کہ جمعے کے روز کی جیت سے بنگلہ دیش نے 16 سالہ جمود توڑا تھا جبکہ اتوار کی جیت نے اسے پاکستان کے خلاف پہلی بار ون ڈے سیریز کی جیت سے ہمکنار کر دیا۔

خیال یہی تھا کہ پہلے ون ڈے کی شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کی طرف سے قدرے بہتر کارکردگی سامنے آئےگی لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جیسے ٹیم میں واپس آنے والے ہر کھلاڑی کو اپنی انفرادی کارکردگی کی فکر پہلے لگی ہوئی ہے کہ کیسے ٹیم میں اپنی جگہ بنائے۔

شاید اسی دباؤ کے نتیجے میں ایک بھرپور اجتماعی کارکردگی نظروں سے اوجھل ہے۔

پہلے میچ میں پاکستانی ٹیم کو 330 کا ہدف عبور نہ کرنے کی وجہ سے شکست ہوئی تھی اور دوسرے میچ میں وہ بنگلہ دیشی ٹیم کو ایسا ہدف دینے میں کامیاب نہ ہو سکی جس کا دفاع اس کے بولر کر پاتے۔

یہ کرکٹ بڑا ظالم کھیل ہے، پلک جھپکتے ہی ہیرو کو زیرو بنا دیتا ہے۔

سرفراز احمد ورلڈ کپ میں دو شاندار اننگز کھیل کر ہیرو بن گئے تھے لیکن ان دو میچوں میں وہ اوپنر کی حیثیت سے توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔

محمد حفیظ کی مسلسل دوسری ناکام اننگز نے مبصرین کا یہ سوال پھر تازہ کر دیا ہے کہ کیا بغیر بولنگ کے ان کی ون ڈے ٹیم میں جگہ بنتی ہے؟ اظہرعلی نے اس بار بھی رنز بنانے کی ذمہ داری سنبھالنے کی کوشش کی لیکن وہ شکیب الحسن کی میچ میں دو قیمتی وکٹوں میں سے پہلی وکٹ بن گئے۔

شکیب الحسن نے دوسری اہم کامیابی محمد رضوان کو آؤٹ کر کے حاصل کی جنھوں نے پہلے میچ میں نصف سنچری سکور کی تھی لیکن اس بار وہ صرف 13 رنز بنا سکے۔

فواد عالم بھی محمد حفیظ کی طرح مسلسل دوسرے میچ میں ناکام رہے ۔

حارث سہیل کا ٹیلنٹ اس وقت اُن کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے جب ٹیم کو ان سے بڑی اننگز کی آس ہوتی ہے اور جس بولنگ کے بل پر انھیں ٹیم کا اہم کھلاڑی قرار دیا جا رہا تھا وہ بولنگ بھی اب ڈھونڈنے سے نہیں مل رہی۔

پہلے میچ میں صفر پر آؤٹ ہونے والے سعد نسیم نے اس مرتبہ اعتماد سے بیٹنگ کی اور چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 77 رنز بنائے اور ٹیم کو مکمل طور پر بکھرنے سے بچائے رکھا۔

پاکستانی اننگز کو 239 تک پہنچانے کا سہرا وہاب ریاض کے سر جاتا ہے جنھوں نے ایک بار پھر خود کو قابلِ اعتماد بیٹسمین ثابت کر دکھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بنگلہ دیش کے تمیم اقبال نے لگاتار دوسری سنچری سکور کر ڈالی

وہاب ریاض نےاپنی دوسری ون ڈے نصف سنچری صرف 40 گیندوں پر پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے سکور کی اور ورلڈ کپ میں زمبابوے کے خلاف میچ کی یاد تازہ کر دی۔

برزبین میں پاکستانی ٹیم نے وہاب ریاض اور محمد عرفان کی چار چار وکٹوں کی شاندار کارکردگی کےنتیجے میں20 رنز کی ڈرامائی کامیابی حاصل کی تھی، لیکن میرپور میں پاکستانی بولر بنگلہ دیشی بیٹسمینوں پر اپنا اثر دکھانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

اس کا سب سے زیادہ فائدہ تمیم اقبال نے اٹھایا اور لگاتار دوسری سنچری سکور کر ڈالی۔

جنید خان اور راحت علی اننگز کی ابتدا ہی میں چوکے کھاتے رہے۔ وہاب ریاض کاجوش بھی بیٹسمینوں پر حاوی نہ ہو سکا۔

سعید اجمل اپنے پہلے تین اووروں میں سات کی اوسط سے 21 رنز دے چکے تھے اگرچہ انھیں چوتھے اوور کی پہلی گیند پر انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی پہلی وکٹ مل گئی تاہم ان کے لیے موجودہ بولنگ ایکشن میں رہتے ہوئے خود کو پہلے جیسا فتح گر ثابت کرنا آسان نہیں رہا۔

بنگلہ دیش نے سیریز کے دو میچ جیت کر اب کلین سویپ کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔

اسی بارے میں