کون رہے گا، کون جائے گا؟

کپتان اظہر علی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کپتان اظہر علی کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی ٹیم نہ سنبھل سکی

ورلڈ کپ کے بعد نئی پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بنگلہ دیش کے خلاف شکست غیر متوقع نہ تھی لیکن یہ شکست مسلسل تین میچوں کے وائٹ واش میں بدل جائے گی، یہ شاید ہی سوچا گیا ہو۔

بنگلہ دیشی ٹیم کلین سویپ کر کے بھی اپنی عالمی رینکنگ بہتر نہیں کر سکی لیکن اس نے پاکستانی ٹیم کو عالمی رینکنگ میں ساتویں سے آٹھویں نمبر پر ضرور دھکیل دیا ہے اور یہ خطرہ پاکستانی ٹیم پر منڈلانے لگا ہے کہ اگر وہ آئندہ ماہ زمبابوے اور پھر جولائی میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز میں کامیاب نہ ہوئی تو وہ آٹھویں پوزیشن سے بھی نیچے آ کر چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت سے محروم ہو سکتی ہے جس میں عالمی رینکنگ کی پہلی آٹھ ٹیمیں حصہ لیں گی۔

تیسرے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم نے اپنے نائب کپتان سرفراز احمد کو ڈراپ کرنے کا بم گرایا۔

ایک ایسا کھلاڑی جس نے ورلڈ کپ میں اپنی شاندار بیٹنگ سے ٹیم کے پست حوصلوں کو پھر سے جوان کیا ہو اسے صرف دو خراب اننگز پر کیسے باہر بٹھایا جاسکتا ہے؟

ورلڈ کپ میں بھی انھیں باہر بٹھائے جانے پر کوچ وقار یونس زبردست تنقید کی زد میں آئے تھے اور اب بھی انھی سے دوبارہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کس جواز کے تحت سرفراز احمد کو باہر بٹھا کر انھیں بیٹسمینوں کو پانی پلانے کی ڈیوٹی پر لگادیا گیا؟

سرفراز احمد پر ورلڈ کپ میں نان ریگولر وکٹ کیپر عمراکمل کی شکل میں دباؤ ڈالا گیا تھا اور اب محمد رضوان کی صورت میں تلوار لٹکا دی گئی ہے جنھوں نے پہلے ون ڈے میں نصف سنچری بناکر مثبت آغاز کیا تھا لیکن بقیہ دونوں میچوں میں وہ ناکام رہے۔ یہی نہیں بلکہ تیسرے میچ میں انھوں نے وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے سومیا سرکار کا کیچ بھی ڈراپ کیا جنھوں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سنچری بنا ڈالی۔

محمد حفیظ دو میچوں میں چار اور صفر کی مایوس کن پرفارمنس کے باوجود تیسرا میچ غالباً اس لیے بھی کھیل گئے کہ ان کا بولنگ ایکشن کلیئر ہوگیا ہے لیکن ان کی بیٹنگ تیسرے میچ میں بھی ٹیم پر بوجھ ہی بنی رہی جبکہ ان کی آف سپن بھی بنگلہ دیشی بیٹسمینوں کو مرعوب نہ کر سکی۔

اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے سمیع اسلم اور کپتان اظہر علی کے اچھے آغاز سے امید ہوئی تھی کہ پاکستانی ٹیم سکور تین سو تک لے جائے گی لیکن کپتان اظہر علی نے ہی درحقیقت سنچری مکمل کرنے کے بعد غیر ذمہ دارانہ انداز میں وکٹ گنوا کر بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے کامیابیوں کا راستہ کھول دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد حفیظ تیسرے میچ میں بھی بڑا سکور نہیں کر سکے

کپتان اظہر علی کے آؤٹ ہونے کے فوراً بعد حارث سہیل نے بھی اپنی وکٹ گنوائی اور پھر پاکستانی ٹیم نہ سنبھل سکی۔

حارث سہیل کو شاید اس بات کی خوش فہمی ہے کہ ٹیم کے دوسرے بیٹسمین جب کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں تو ایسے میں ان کے 40 اور 50 رنز بہت اہمیت رکھتے ہیں لیکن اب انھیں اندازہ ہوجانا چاہیے کہ جب تک وہ اپنے سکور کو تین ہندسوں میں تبدیل نہیں کریں گے وہ خود کو مستند بیٹسمینوں میں شامل نہیں کر پائیں گے۔

پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کے پاس عبدالرزاق اور شاہد آفریدی کی طرح کا کوئی بھی بیٹسمین نہیں ہے جو آخری اووروں میں بولرز پر چڑھائی کر سکے۔ ہر اننگز میں وہاب ریاض سے نصف سنچری کی توقع کرنا خود فریبی ہے۔

فواد عالم اپنی ناکام اننگز کی تعداد بڑھاتے جا رہے ہیں۔ دراصل پہلے دو میچوں کی مایوس کن کارکردگی کے بعد تیسرے میچ میں اگر کسی بیٹسمین کو باہر بٹھایا جاسکتا تھا تو وہ فواد عالم تھے۔

پاکستانی بولنگ 239 کے بعد اس بار 250 رنز کا دفاع نہ کرسکی۔

بنگلہ دیش نے 49 میں سے 31 اوورز اسپنروں سے بہت عمدگی کے ساتھ کرائے لیکن پاکستانی بولنگ ایک بار پھر اوپنروں تمیم اقبال اور سرکار کے رحم و کرم پر رہی جنہوں نے 145 رنز کا عمدہ آغاز دے کر جیت کو آسان بنا دیا۔

سعید اجمل پر سے ٹیم مینیجمنٹ کا اعتماد دو میچوں کے بعد ہی اٹھ گیا جو خود سعید اجمل کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اوپنرز تمیم اقبال اور سرکار نے 145 رنز کا عمدہ آغاز دے کر جیت کو آسان بنا دیا

ذوالفقار بابر 19ویں اوور میں بولنگ کے لیے لائے گئے لیکن اس وقت تک تمیم اور سرکار اپنی ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کرچکے تھے۔

ذوالفقار بابر کو شارٹ لیگ پر سمیع اسلم کے ڈراپ کیچ نے تمیم اقبال کی وکٹ سے محروم رکھا۔

دونوں فاسٹ بولرز عمرگل اور جنید خان فٹنس مسائل کا شکار رہتے ہوئے ٹیم میں واپس آئے ہیں۔ عمرگل کی چار ماہ کی غیرحاضری ان کی بولنگ اور باڈی لینگویج سے ظاہر ہو گئی۔

جنید خان نے بنگلہ دیش کی گرنے والی دونوں وکٹیں حاصل کیں لیکن رنز پر قابو رکھنا ان کے بس میں بھی نہ تھا۔

تینوں میچوں میں پاکستانی غیر موثر بولنگ کو دیکھنے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ بولنگ اٹیک ٹیسٹ میچ میں 20 وکٹیں حاصل کرنے کی سکت رکھتا ہے؟

ان تین میچوں نے ٹیم کی جن کمزوریوں کو واضح کر دیا ہے اب یہ کوچ وقار یونس اور دوسرے کوچز کا کام ہے کہ وہ جتنا جلد ہوسکے انھیں دور کرنے کی کوشش کریں۔

وقار یونس دوسری مرتبہ کوچ بننے کے بعد سے مسلسل پانچ ون ڈے سیریز ہار چکے ہیں۔ یہ سیریز تو تشکیل نو اور نئی شکل کے جواز کے تحت ان کے بچاؤ کا جواز پیدا کر دے گی لیکن آنے والے دنوں میں ان کے لیے بچاؤ صرف جیت کی صورت میں ہی ان کے لیے ممکن ہو سکے گا۔

اسی بارے میں