سرفراز کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے: راشد لطیف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرفراز احمد نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں بھی عمدہ بیٹنگ کی تھی: راشد لطیف

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے بنگلہ دیش کے خلاف تیسرے ایک روزہ بین الاقوامی میچ سے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کو ڈراپ کیے جانے کو مضحکہ خیز فیصلہ قرار دیا ہے۔

راشد لطیف نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ سرفراز احمد ان چند بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں جو دباؤ میں اچھا کھیلتے ہیں، وہ کل تک ہیرو تھے لیکن آج انھیں ڈراپ کرکے زیرو کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے جس کی کوئی بھی معقول وجہ نہیں ہے۔

راشد لطیف نے کہا کہ سرفراز احمد نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں بھی زبردست بیٹنگ کی تھی اور وہ ورلڈ کپ کے ابتدائی میچوں میں بھی کسی صورت ڈراپ نہیں ہوتے تھے اور اس وقت جبکہ وہ ٹیم کے نائب کپتان ہیں انھیں باہر بٹھا کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کرکٹ بورڈ کو کسی بھی کھلاڑی پر اعتماد نہیں۔

راشد لطیف نے کہا کہ ’وقار یونس بلاشبہ اپنے دور کے بہت بڑے کھلاڑی تھے وہ جس ٹیم میں کھیلتے تھے وہ بھی بہت بڑی تھی لیکن ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ کوچ کی حیثیت سے انھوں نے اپنی سابقہ غلطیوں سے نہیں سیکھا حالانکہ وہ پہلی بار کوچ نہیں بنے ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ خود کریں اس سے قبل کہ کرکٹ بورڈ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے۔‘

راشد لطیف نے کہا کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وقار یونس اپنے نام اور مرتبے کے مطابق فیصلے کھلاڑیوں پر تھوپ رہے ہیں، چونکہ ٹیم میں اکثریت نئے کھلاڑیوں کی ہے لہٰذا یہ کھلاڑی کچھ نہیں کہہ پاثرہے ہیں۔ اظہرعلی کو کپتانی دیا جانا بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے۔‘

راشد لطیف نے بنگلہ دیشی ٹیم کے کوچ ہتھوروسنگھے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ’وقار یونس کی طرح آسٹریلیا میں رہتے ہیں لیکن نیوساؤتھ ویلز کے اسسٹنٹ کوچ کی حیثیت سے انھوں نے کوچنگ پر بہت محنت کی۔ نیوساؤتھ ویلز کے نو کھلاڑی عالمی کپ کے سکواڈ کا حصہ تھے۔ ہتھوروسنگھے نے وہی خوبی بنگلہ دیشی کرکٹروں میں بھی منتقل کی ہے جو ان کی موجودہ کارکردگی سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔‘

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ’احمد شہزاد کو ڈسپلن کے نام پر بنگلہ دیشی دورے سے باہر کرنا کرکٹ بورڈ کی اپنی ناکامی ہے۔ انھیں اگر ڈراپ کرنا ہی تھا تو بہتر تھا کہ انھیں ورلڈ کپ کے دوران ہی وطن واپس بھیج دیا جاتا۔ یہ ٹیم منیجمنٹ کی کمزوری ہے کہ اس نے اس وقت غلطی پر پردہ ڈالے رکھا۔‘

اسی بارے میں