پاکستانی ٹیم نے کیچ ڈراپ کرنے کی ریت برقرار رکھی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بنگلہ دیشی اننگز کو مومن الحق کی عمدہ بیٹنگ سے ڈھارس ملی جو 13 ٹیسٹ میں چار سنچریاں اور آٹھ نصف سنچریاں بنا چکے ہیں اور آخری دس ٹیسٹ میچوں میں ان کی سنچری یا نصف سنچری ضرور شامل ہے

کھلنا ٹیسٹ کے پہلے دن اگرچہ بنگلہ دیشی بیٹسمین پاکستانی بولنگ پر مکمل طور نہیں چھائے تب بھی انھوں نے پاکستانی بولرز کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔

بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ پر پہلے دن ٹاس ہارنے کے باوجود پاکستانی بولرز کو میزبان ڈریسنگ روم میں بے چینی پھیلانے کا اچھا خاصا موقع ہاتھ آیا تھا لیکن ورلڈ کپ کی بدترین فیلڈنگ کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں۔

ذوالفقار بابر کی گیند پر محمد حفیظ تمیم اقبال کا کیچ نہ لے سکے۔ یاسرشاہ کی گیند پر شارٹ لیگ پر اظہرعلی امرالقیس کا کیچ نہ دبوچ سکے۔

ذوالفقار بابر کی گیند پر لانگ آن پر یاسر شاہ نے امرالقیس کو بچ نکلنے کا موقع فراہم کردیا اور ذوالفقار بابر ہی نے اپنی گیند پر مومن الحق کا کیچ ڈراپ کردیا۔

یہ مواقع گنوانے کے بعد پاکستانی ٹیم نے یقیناً دن کے آخری اوور میں مومن الحق کی وکٹ حاصل کرکے سکون کا سانس لیا ہوگا جو 80 رنز بناچکے تھے اور 13 ویں ٹیسٹ میں پانچویں سنچری کے قریب پہنچ چکے تھے۔

ٹیسٹ سیریز شروع ہوئی تو ذہنوں میں یہی سوال تھا کہ ڈھاکہ میں ڈوبنے والی محدود اوورز کی پاکستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز میں چند تبدیل شدہ چہروں کے ساتھ دوبارہ سر اٹھانے میں کامیاب ہوسکے گی؟۔

کپتان مصباح الحق نے ٹیم منتخب کرتے ہوئے اندازہ لگا لیا تھا کہ سعید اجمل موجودہ حالات میں اب ان کے لیے ٹرمپ کارڈ ثابت نہ ہوں لہذا انہوں نے ذوالفقار بابر اور یاسرشاہ پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا۔

سعید اجمل آٹھ ماہ بعد بولنگ ایکشن کو 15 ڈگری کے اندر کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آئے ہیں لیکن دو ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں وہ موثر ثابت نہ ہوسکے تھے جس نے اس سوال کی شدت میں اضافہ کردیا ہے کہ کیا یہ صرف پاکستان میں ہی ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ سے باہر رہنے والے کرکٹر کی واپسی ڈومیسٹک کرکٹ کے بجائے براہ راست انٹرنیشنل کرکٹ میں ہوتی ہے۔

میچ کی تیسری ہی گیند پر پاکستان نے ریویو حاصل کرکے اسے ضائع کردیا جس کے بعد تمیم اقبال اور امرالقیس نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 52 رنز کا اضافہ کیا۔

تمیم اقبال ون ڈے سیریز کی شاندار فارم کو اس بار جاری نہ رکھ سکے البتہ امرالقیس نے نصف سنچری سکور کی۔

ورلڈ کپ میں شاندار بیٹنگ کرنے والے محمود اللہ نصف سنچری سے ایک رن کی دوری پر وہاب ریاض کی گیند پر وکٹ کیپر سرفراز احمد کے انتہائی شاندار کیچ پر آؤٹ ہوئے۔

بنگلہ دیشی اننگز کو مومن الحق کی عمدہ بیٹنگ سے ڈھارس ملی جو 13 ٹیسٹ میں چار سنچریاں اور آٹھ نصف سنچریاں بنا چکے ہیں اور آخری دس ٹیسٹ میچوں میں ان کی سنچری یا نصف سنچری ضرور شامل ہے۔

مصباح الحق نے 84 ویں اوور میں نئی گیند لی لیکن جنید خان کے دو ہی اوور کے بعد سپنرز نے نئی گیند سنبھال لی۔

دوسرے دن پاکستانی بولرز نے اگر جلد کامیابی حاصل نہ کی تو بنگلہ دیشی بیٹنگ صورت حال اپنے حق میں کردے گی کیونکہ کریز پر شکیب الحسن موجود ہیں اور ان کے علاوہ کپتان مشفق الرحیم اور سومیا سرکار کی بیٹنگ ابھی باقی ہے۔

پریکٹس میچ اور پھر تیسرے ون ڈے میں سنچریاں بنانے کا انعام سرکار کو ٹیسٹ کیپ کی صورت میں ملا ہے۔

شکیب الحسن کے لیے کھلنا کا یہ میدان خوش قسمت ثابت ہوا ہے کیونکہ زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ میں انھوں نے سنچری بنانے کے علاوہ میچ میں دس وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

اسی بارے میں