پرانے کپتان سے ہی قسمت بدلنے والی ہے

Image caption کپتان مصباح الحق کی قیادت میں ٹیم ایک بار پھر فتح کی راہ پر گامزن نظر آ رہی ہے

ون ڈے کا کپتان بدلنے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قسمت تو فوری طور پر نہ بدل سکی لیکن ٹیسٹ سیریز میں وہی پرانے کپتان کے آنے سے ٹیم جیت کی راہ پر واپس آتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی محدود اوورز کی سیریز میں شاندار کامیابی کے بعد اس سے ٹیسٹ سیریز میں بھی توقعات میں بے پناہ اضافہ کر لیاگیا تھا اور دوسری جانب پاکستانی ٹیم پر دباؤ بڑھا ہوا تھا لیکن کھلنا ٹیسٹ کے تین دن کے کھیل کے بعد صورتحال پاکستانی ٹیم کے قابو میں دکھائی دے رہی ہے۔

بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ پر پاکستانی بیٹسمینوں نے ہوشمندی کے ساتھ کھیلتے ہوئے پہلی اننگز میں دو سو پانچ رنز کی اہم برتری حاصل کر لی ہے اور کریز پر وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کی موجودگی نے اس امید کو زندہ رکھا ہے کہ چوتھے دن پہلے سیشن میں تیزی سے بنائےگئے ان کے رنز اس برتری کو بڑھاتے ہوئے پاکستانی ٹیم کی جیت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

سرفراز احمد جنھوں نے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ اور آئرلینڈ کے خلاف دو زبردست اننگز کھیل کر ٹیم کو نیا حوصلہ دیا تھا ایک بار پھر حالات کے مطابق بیٹنگ کی اور سکور بورڈ کو کسی بھی وقت رکنے نہیں دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیسرے روز کھیل کے اختتام پر اسد شفیق اور سرفراز احمد وکٹ پر موجود ہیں

خاموش لیکن پراعتماد اسد شفیق بھی نصف سنچری بناکر دوسرے اینڈ پر سرفراز احمد کے ساتھ موجود ہیں۔

اس سے قبل محمد حفیظ نے میلہ لوٹ لیا۔وہ ون ڈے سیریز کی ناکام پرفارمنس پر تنقید کی زد میں آئے تھے لیکن یہ بات بھی سب کو معلوم تھی کہ وہ ٹیسٹ میچوں میں مستقل مزاجی سے سکور کرتے آئے ہیں اور انھوں نے دوسرے دن کی سنچری کو تیسرے دن اپنے ٹیسٹ کریئر کی پہلی ڈبل سنچری میں بدل دیا جس سے وہ اس سے پہلے دو مرتبہ محروم ہو چکے تھے۔

محمد حفیظ کی ڈبل سنچری اور اظہرعلی کے ساتھ ان کی ڈبل سنچری شراکت نے ٹیم کو ایک بڑے سکور تک جانے کی راہ دکھائی۔اظہرعلی آٹھویں سنچری کے قریب آ کر اس سے دور ہوئے جبکہ یونس خان کو تیج الاسلام کی انتہائی خوبصورت گیند نے چکمہ دے دیا۔

کپتان مصباح الحق نے معمول کے مطابق پرسکون انداز میں بیٹنگ کی لیکن نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد سوئپ کرنے کی کوشش میں بیک ورڈ سکوائر لیگ پر کیچ دے بیٹھے۔

جب سرفراز احمد کھیلنے آئے تھے اس وقت پاکستان کی برتری 136 رنز کی تھی جو اب دو سو پانچ رنز کی ہو چکی ہے اور اس دوران بننے والے انہتر رنز میں 51 رنز سرفراز ا حمد کے ہیں۔

اسی بارے میں