ایورسٹ کے سفر کو ممکن بنانے کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیپال میں آنے والے حالیہ زلزلے میں ایورسٹ کو سر کرنے کی غرض سے بیس کمیپ پر مقیم 19 کوہ پیما ہلاک ہو گئے

نیپالی حکومت نے ایک انتہائی متنازع قدم کے تحت شرپاؤں کی ایک ٹیم ماؤنٹ ایورسٹ کے لیے روانہ کی ہے تاکہ کوہ پیمائی جلد از جلد شروع کی جا سکے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے آنے والے زلزلے میں ماؤنٹ ایورسٹ کے دامن میں واقع بیس کیمپ برف کے تودوں سے متاثر ہوا تھا اور اس میں 19 کوہ پیما ہلاک ہو گئے تھے۔

ان شرپاؤں کی ٹیم کو بیس کیمپ سے آگے کے راستے کو درست کرنے کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔

برف کے تودے گرنے سے تمام رسیاں اور سیڑھیاں جو پہلے کیمپ پر جانے کے لیے لگائی گئی تھیں وہ تباہ ہو چکی ہیں، اور کوہ پیماؤں کا پہلے کیمپ تک پہنچنا ناممکنات میں شامل ہو گيا ہے۔

نیپال میں سیاحت کے شعبے کے ڈائرکٹر تلسی گوتم نے کہا: ’ہمارے اندازے کے مطابق چند دنوں میں یہ لوگ اسے درست کر دیں گے‘ کیونکہ ان کے خیال میں چند سیڑھیاں ہی تباہ ہوئي ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال ایورسٹ کی مہم برفانی تودوں کے گرنے اور 16 شرپاؤں کی موت کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی تھی

انھوں نے کہا: ’اگر ہم مئی کے پہلے ہفتے میں راستے کو ٹھیک کر سکے تو یہ عین ممکن ہے کہ کوہ پیما اپنی مہم مئی کے تیسرے یا چوتھے ہفتے تک پوری کر لیں۔‘

بتایا گیا ہے کہ حکومت پیر کو اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گي۔

خیال رہے کہ ایورسٹ سر کرنے کا موسم مئی کے اختتام پر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد یہاں مون سون کا آغاز ہو جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بہت سے کوہ پیما ابھی بھی بیس کمیپ پر اس امید میں ہیں کہ کب راستے کھلیں اور وہ اپنی مہم پر روانہ ہوں۔

دنیا کی اس بلندترین چوٹی کو سر کرنے کی خواہشیں ہر کوہ پیما کے دل میں موج زن ہوتی ہیں لیکن اس کے لیے بہت پیسے درکار ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک کوہ پیما گائے کوٹر نے کہا: ’مجھے معلوم ہے جن ٹیموں کو براہ راست نقصان نہیں پہنچا ہے ان کا خیال ہے کہ وہ اس سفر کو پورا کریں۔

بھارتی کوہ پیما ٹیم کے ایک رکن سہیل شرما نے کہا: ’بہت سے کوہ پیماؤں کے لیے یقیناً یہ پیسے کا سوال ہے۔‘

وہ بیس کیمپ سے نیپالی دارالحکومت کھٹمنڈو آئے تاکہ اس بابت حکومت کا موقف معلوم کر سکیں تاکہ ان کی ٹیم بقول ان کے ایورسٹ کے اس ’روحانی سفر‘ کو پورا کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پہاڑ کو کوہ پیماؤں کے لیے بند رکھا گیا تو ہر ایک کوہ پیما کو کم از کم 70 ہزار ڈالرکا نقصان ہو گا۔

لیکن بہت سے لوگوں نے 25 اپریل کو رونما ہونے والے حالات میں اس مہم کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس زلزلے میں ابھی تک سات ہزار سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 14 ہزار سے بھی زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

تجارتی مقاصد کے تحت کوہ پیمائی کی سربراہی کرنے والے گائے کوٹر کے پانچ شرپا برف کے تودے گرنے سے ہلاک ہو گئے تو انھوں نے اپنی مہم منسوخ کر دی۔

Image caption بھاتی کوہ پیما ٹیم کے ایک رکن سہیل شرما نے کہا: ’بہت سے کوہ پیماؤں کے لیے یقینا یہ پیسے کا سوال ہے‘

انھوں نے کہا: ’مجھے معلوم ہے کہ جن ٹیموں کو براہ راست نقصان نہیں پہنچا ہے ان کا خیال ہے کہ وہ اس سفر کو پورا کریں۔‘

ایک برطانوی کوہ پیما ایڈریئن ہیز نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ایورسٹ سر کرنے کا اپنا ارادہ ترک کر دیا ہے اور اب وہ اپنی صلاحیت کو زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی کاموں میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

وہ تربیت یافتہ طبی معاون ہیں اس لیے وہ دور دراز کے علاقوں کا رخ کر رہے تاکہ لوگوں کو امداد پہنچائی جا سکے۔

اس بحران کے باوجود حکومت ایورسٹ کی کوہ پیمائی کے راستے کو کھولنا چاہتی ہے بشرطیہ کہ ایسا کرنا محفوظ ہو۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس پر ان کوہ پیماؤں کی جانب سے دباؤ ہے جو اپنا ارادہ ترک کرنا نہیں چاہتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ کو فتح کرنا ہر کوہ پیما کا خواب ہوتا ہے لیکن اس میں خرچ بہت آتا ہے

دوسری جانب مالی وجوہات بھی ہیں کیونکہ سیاحت نیپال کی واحد صنعت ہے اور کوہ پیمائي اور ٹریکنگ اس کا اہم حصہ ہیں۔

حالات جس قدر جلد معمول پر آتے ہیں سیاحت پر اس کا اثر اتنا ہی کم پڑے گا۔

خیال رہے کہ لگاتار دوسرے سال ایورسٹ سر کرنے کی مہم متاثر ہوئی ہے۔ اس سے قبل برفانی طوفان میں 16 شرپاؤں کی موت کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

لیکن اس بار شرپاؤں کا کہنا ہے کہ وہ پہاڑ پر واپسی کے لیے تیار ہیں۔

اسی بارے میں