’قوی امید تھی کہ پاکستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز جیتے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصباح الحق نے پاکستانی فاسٹ بولرز کے ان فٹ ہوجانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی جیت کو اس مستقل مزاجی کا تسلسل سمجھتے ہیں جو پاکستانی ٹیم حالیہ برسوں میں ٹیسٹ میچز میں دکھاتی آئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اسی بنا پر انہیں قوی امید تھی کہ پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتے گی۔

واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم نے بنگلہ دیش میں محدود اوورز کی سیریز ہارنے کے بعد مصباح الحق کی قیادت میں دو ٹیسٹ میچز کی سیریز ایک صفر سے جیتی۔

یہ مصباح الحق کی کپتانی میں چھٹی ٹیسٹ سیریز ہے جو پاکستانی ٹیم نے جیتی ہے۔

مصباح الحق نے ڈھاکہ سے وطن واپسی پر بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں جو اچھی کارکردگی دکھائی تھی اسے بنگلہ دیش میں بھی دہرایا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا ’کامبی نیشن‘ یا تال میل اچھا ہے اور وہ زیادہ تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ اس دورے سے قبل انھیں اندازہ تھا کہ بنگلہ دیشی ٹیم نے پچھلے دو تین سال کے دوران ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کا سخت مقابلہ کیا ہے کیونکہ وہ مختصر دورانیے کی کرکٹ میں خود کو بہت بہتر کرچکی ہے ۔اس نے جب پاکستانی ٹیم کو ون ڈے سیریز کے تینوں میچز میں شکست دی اور ٹی ٹوئنٹی بھی جیتا تو یقیناً ٹیسٹ سیریز کے آغاز میں بھی کھلاڑیوں پر تھوڑا سا دباؤ تھا لیکن پاکستانی ٹیم کا ٹیسٹ کرکٹ کا تجربہ اور اچھی کارکردگی کا تسلسل اس کے کام آیا۔

ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ کھلنا کے پہلے ٹیسٹ میچ کا ڈرا ہونا ان کے لیے بہت مایوس کن تھا۔انھیں قطعاً امید نہیں تھی کہ بنگلہ دیشی ٹیم دو سو چھیانوے رنز کے خسارے میں جانے کے بعد بھی میچ بچانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

انھوں نے یہ دیکھ کر کہ وہ میچ ہارچکی ہیں سلو وکٹ پر جارحانہ بیٹنگ کا چانس لیا اور پہلی وکٹ کی زبردست شراکت قائم کر ڈالی۔تمیم اقبال نے پہلی گیند سے ڈبل سنچری تک ایک ہی انداز میں بیٹنگ کی وہ بہت اچھا کھیلے اور قسمت بھی ان پر مہربان رہی ۔

پاکستانی ٹیم کو میچ جیتنے کا جو موقع ہاتھ آیا تھا وہ تمیم اقبال اور امرالقیس کی اچھی اننگز کے سبب ضائع ہوگیا۔

مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ سست اوور ریٹ کے سبب جرمانے کے بعد ممکنہ معطلی کی تلوار ان کے سر پر لٹک رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ میرپور ٹیسٹ کی جیت کا سارا مزا اس جرمانے نے کرکرا کردیا۔کئی بار کپتان کو میچ کی صورتحال کے مطابق اپنے بولرز کو وقت دینا پڑتا ہے اور جب وہ سست اوور ریٹ کی زد میں آجاتا ہے تو اگلے کچھ عرصے تک وہ دباؤ میں رہتا ہے ۔ان کے ساتھ بھی یہی صورتحال ہے ۔ وہ اگلے میچوں میں سلو اوور ریٹ سے بچنے کی کوشش کرینگے۔

مصباح الحق نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ سعید اجمل کو ٹیسٹ سیریز میں نہ کھلانے کا فیصلہ ان کے لیے مشکل تھا۔

انھوں نے کہا کہ سعید اجمل ایک ایسے کرکٹر ہیں جو اپنی ذات پر ٹیم کو ہمیشہ اہمیت دیتے ہیں اسی لیے انھوں نے ذوالفقاربابر اور یاسر شاہ کو سپورٹ کیا جو حالیہ ٹیسٹ سیریز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے چلے آئے ہیں۔

سعید اجمل نےخود اندازہ لگا لیا تھا کہ انھیں پانچ روز کی کرکٹ کے لیے درکار فارم حاصل کرنے کے لیے ابھی وقت درکار ہے امید ہے کہ وہ کاؤنٹی کرکٹ کھیل کر یہ فارم حاصل کرلیں گے۔

مصباح الحق نے پاکستانی فاسٹ بولرز کے ان فٹ ہوجانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ ایسی صورتحال میں کسی بھی ٹیم کا آگے بڑھنا مشکل ہوجاتا ہے اور پاکستانی ٹیم کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ صرف ایک نہیں بلکہ پورا بولنگ اٹیک ہی سیٹ ہونے کے بعد ان فٹ ہو کے تبدیل ہوجاتا ہے۔

اسی بارے میں