’مجھے میری امپائرنگ کی وجہ سے یاد رکھا جائے‘

Image caption میں اس وقت آئی سی سی کے انٹرنیشنل امپائرز میں شامل ہوں اور میری کوشش ہے کہ میری امپائرنگ میں بہتری آتی رہے

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے ساتھ ہی ذہن چھ سال قبل ہوئے اس واقعے کی طرف چلا جاتا ہے جس کے نتیجے میں یہ کرکٹ منقطع ہوئی تھی۔

پاکستانی انٹرنیشنل امپائر احسن رضا کے لیے جیسے یہ کل ہی کی بات ہے، جب 3مارچ سنہ 2009 کو لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے میں وہ آئی سی سی کے میچ ریفری کرس براڈ کو بچانے کی کوشش میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔

احسن رضا سری لنکا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی سیریز کے امپائر تھے۔ اس وین میں ان کے ساتھ سائمن ٹافل، سٹیو ڈیوس اور میچ ریفری کرس براڈ بھی سوار تھے جو قذافی سٹیڈیم جارہے تھے۔

وین پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں وین ڈرائیور ہلاک اور احسن رضا بری طرح زخمی ہوئے تھے۔

اب چھ سال بعد پاکستان میں بحال ہونے والی انٹرنیشنل کرکٹ احسن رضا کے لیے اس اعتبار سے یادگار ہے کہ انھیں دونوں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل کے لیے فیلڈ امپائر مقرر کیا گیا ہے۔

احسن رضا کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی بار کسی بین الاقوامی میچ میں امپائرنگ پر وہ بہت خوش ہیں۔

’میں نے 30 سے زیادہ انٹرنیشنل میچز میں امپائرنگ کی ہے لیکن اس خوشی کا کوئی بدل نہیں جو اپنے ملک میں پہلی بار کسی انٹرنیشنل میچ کی امپائرنگ کرکے مجھے ملےگی۔‘

احسن رضا لاہور دہشت گردی کے واقعے کو یاد کرنا نہیں چاہتے ۔

’مجھ سے پہلی بار ملنے والا شخص اس واقعے کے بارے میں بات کرتا ہے تو مجھے بھی وہ واقعہ یاد آجاتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ لوگ مجھے اس واقعے کی وجہ سے یاد رکھیں۔ میں اپنی امپائرنگ کی وجہ سے یاد رکھا جانا چاہتا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس وقت آئی سی سی کے انٹرنیشنل امپائرز میں شامل ہوں اور میری کوشش ہے کہ میری امپائرنگ میں بہتری آتی رہے۔‘

احسن رضا کہتے ہیں کہ لاہور دہشت گردی کے واقعے نے انھیں گرنے کی بجائے باہمت بنادیا۔

’مجھے معلوم ہے کہ وہ دن بہت تکلیف دہ تھے جب ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا کہ مجھے ٹھیک ہونے میں ڈیڑھ سے دو سال لگیں گے لیکن میں نے چھ ماہ میں ہی امپائرنگ شروع کردی تھی۔‘

پاکستانی امپائر نے بتایا کہ’ لوگ میرے موٹاپے کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن انھیں یہ نہیں معلوم کہ یہ اسی واقعے کا نتیجہ ہے جس میں مجھے دو درجن خون کی بوتلیں لگائی گئیں، میرے جسم پر 80 سے 85 ٹانکے آئے لیکن میں لوگوں کی باتوں کا برا نہیں مانتا۔‘

احسن رضا کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں زندہ بچ جانے والے تمام میچ آفیشلز تین مارچ کو ایک دوسرے کو نیک تمناؤں کے پیغامات بھیجتے ہیں۔

’ہم تمام میچ آفیشلز اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں لیکن تین مارچ کی تاریخ کو ہم سب ایک دوسرے کو ضرور ای میل کرتے ہیں۔ جن میں ہر ایک کی صحت اور محفوظ زندگی کے لیے نیک تمنائیں ہوتی ہیں۔‘

احسن رضا نے دوران گفتگو انکشاف کیا کہ لاہور واقعے کے بعد انھیں ملک چھوڑ کر برطانیہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا لیکن انھوں نے اسے قبول نہیں کیا۔

’تین مارچ سنہ 2009 کا وہ واقعہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے زخم بھرجاتا ہے لیکن نشان چھوڑ جاتا ہے۔اس واقعے کے بعد میرے لیے بہت آسان تھا کہ میں انگلینڈ جاکر پناہ لے لیتا اور برطانوی پاسپورٹ ہولڈر بن کر زندگی گزار لیتا، لیکن میں نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی۔‘

اسی بارے میں