ایک آسان جیت جو مشکل بن گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہد آفریدی نے آخری اوور میں چوکا لگا کر پاکستان کو فتح دلوائی

چھ سال کے صبر آزما انتظار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان واپسی کی خوشی جیت کے ساتھ دوبالا ہوگئی۔

پرجوش شائقین کی موجودگی میں ایک زبردست ماحول پیش کرنے والے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان نے پانچ وکٹوں کی جیت کے ساتھ زمبابوے کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل نہ ہارنے کی ریت برقرار رکھی۔

پاکستان کی یہ زمبابوے کے خلاف چھٹی کامیابی ہے۔

زمبابوے کے بیٹسمینوں نے ٹاس جیت کر چھ وکٹوں پر 172 رنز کا اچھا سکور بنایا لیکن پاکستانی ٹیم نے بھی اس چیلنج کو قبول کیا اور اپنا دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے والے مختار احمد اور احمد شہزاد کی شاندار سنچری شراکت سے بھرپور جواب دیا۔

زمبابوے کی اننگز میں اگر پاکستانی بولرز تگنی کا ناچ ناچنے پر مجبور ہوئے تو پاکستانی اوپنرز نے بھی زمبابوے کی بولنگ کو تختہ مشق بنائے رکھا۔

بیٹنگ کے اس زبردست مظاہرے میں شائقین کو بہترین تفریح مل گئی جو سکیورٹی اہلکاروں کی سخت چیکنگ کے کئی مراحل طے کرتے ہوئے خوشی خوشی میدان میں آئے تھے اور خوشی خوشی واپس گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرجوش شائقین کی موجودگی قذافی سٹیڈیم کا ماحول قابلِ دید تھا

مختار احمد اور احمد شہزاد نے 142 رنز کی شاندار شراکت کے ذریعے پاکستانی ٹیم کو ایک آسان جیت کا پلیٹ فارم فراہم کر دیا تھا لیکن آخری اوور میں جیتنے تک پاکستانی ٹیم نے پانچ وکٹیں گنوا دیں۔

مختار احمد نے صرف 45 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 83 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں تین چھکے اور 12 چوکے شامل تھے۔ اپنے دوسرے ٹی 20 میں اس عمدہ کارکردگی پر وہ میچ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔

کریز پر ان کے ساتھی احمد شہزاد نے 55 رنز بنائے لیکن ان دونوں کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان نے محمد حفیظ اور عمر اکمل کی وکٹیں بھی گنوا دیں۔

یہ چار وکٹیں سکور میں صرف 20 رنز کے اضافے پر گریں۔

آخری اوور میں جب پاکستان کو جیت کے لیے چھ رنز درکار تھے ایک بار پھر سلیکٹرز کی آنکھ کا تارا بننے والے شعیب ملک نے اپنی وکٹ گنوا کر مہمان ٹیم کے حوصلے بلند کر دیے لیکن کپتان آفریدی نے آتے ہی چوکے کے ساتھ کہانی ختم کردی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مختار احمد نے صرف 45 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 83 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں تین چھکے اور 12 چوکے شامل تھے

اس سے قبل زمبابوے کی اننگز میں مازا کادسا اور سبانڈا نے سات اوورز میں 58 رنز کی عمدہ شراکت قائم کر کے خطرناک عزائم ظاہر کر دیے تھے۔

مازاکادسا نے صرف 27 گیندوں پر ایک چھکے اور سات چوکوں کی مدد سے 43 رنز سکور کیے جس کے بعد کپتان چگمبورا نے 35 گیندوں پر 54 رنز بناڈالے جس میں ایک چھکا اور آٹھ چوکے شامل تھے۔

محمد سمیع نے پہلے ہی اوور میں تین چوکے کھائے جانے کے بعد لگاتار گیندوں پر دو وکٹیں حاصل کیں اور پھر مزید ایک وکٹ حاصل کرکے اننگز کا اختتام ٹیم کے سب سے کامیاب بولر کے طور پر چھتیس رنز کے عوض تین وکٹوں پر کیا۔

محمد سمیع کی تقریباً تین سال بعد پاکستانی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔

وہاب ریاض نے دو وکٹیں حاصل کیں لیکن وہ بھی زمبابوے کے بیٹسمینوں کی جارحیت کی زد میں آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption آخری اوور میں شعیب ملک نے اپنی وکٹ گنوا کر مہمان ٹیم کے حوصلے بلند کر دیے

بلاول بھٹی ابھی تک نیوزی لینڈ کے خلاف نیپئر کے ون ڈے کے بھیانک خواب سے باہر نہیں نکل سکے ہیں جس میں انہوں نے 93 رنز دے ڈالے تھے۔

بلاول بھٹی کا گذشتہ سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد یہ پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ تھا ۔ آسٹریلیا کے خلاف ڈھاکہ میں انہوں نے دو اوورز میں 36 رنز دے ڈالے تھے جبکہ زمبابوے کے خلاف اس میچ میں ان کے تین اوورز میں 37 رنز بن گئے۔

انور علی اور شاہد آفریدی بھی وکٹ سے محروم رہے اور رنز کے بہاؤ کو بھی نہ روک سکے البتہ شعیب ملک نے تین اوورز میں بارہ رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔

لیکن ان سب سے قطع نظر جب پاکستان میں چھ برس بعد ایک بار پھر انٹرنیشنل کرکٹ شروع ہوگئی ہے تو سکیورٹی کے خدشات بھی پس منظر میں چلے گئے ہیں اور ہر کوئی کرکٹ میں محو نظر آ رہا ہے۔

اسی بارے میں