پاکستانی ٹیم میچ جیتی یا ہار سے بچی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی ٹیم زمبابوے کے خلاف دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل جیت گئی۔

درحقیقت وہ ایک یقینی شکست سے بال بال بچ گئی۔

بار بار آزمائے ہوئے کرکٹرز نے شکست کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

آخری اوور میں پاکستانی ٹیم کو جیت کے لیے بارہ رنز درکار تھے جس میں بلاول بھٹی نے بولنگ میں اپنی پٹائی کا غصہ زمبابوے کے بولر ویٹوری پر نکالا اور ان کے ایک چھکے اور ایک چوکے نے پاکستانی ٹیم کو دو وکٹوں کی جیت سے ہمکنار کردیا۔

اگر پاکستانی ٹیم یہ میچ ہارجاتی تو اس کی عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ پانچویں سے ساتویں ہوجاتی اور زمبابوے کی ٹیم بارہویں سے گیارہویں نمبر پر آجاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی ٹیم میچ جیت تو گئی لیکن سینیر کھلاڑیوں کی مایوس کن کارکردگی نے سلیکشن کمیٹی کے بارے میں کئی سوال چھوڑ دیے ہیں کہ کیا ان بڑے ناموں والے کرکٹرز کے ساتھ وہ اگلے سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں جانے کا سوچ رہی ہے جن کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔

کپتان شاہد آفریدی سلیکٹرز کو یہ مشورہ تو دے رہے ہیں کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے تین ماہ پہلے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے لیکن خود اپنی کارکردگی کے بارے میں وہ کیا کہیں گے؟۔

دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل پہلے میچ سے زیادہ مختلف نہ تھا۔ پہلے میچ میں پاکستانی ٹیم نے ایک سو بیالس رنز کی شاندار شراکت کے بعد پانچ وکٹیں گنوانے کے بعد کامیابی حاصل کرلی تھی لیکن دوسرے میچ میں اس نے ایک سوچھہتر رنز کے تعاقب میں آٹھ وکٹیں گنوادیں۔

پہلے میچ میں شاندار تراسی رنز بنانے والے مختار احمد نے اس بار بھی عمدہ بیٹنگ کی اور باسٹھ رنز اسکور کیے۔

ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کی دو اچھی اننگز پر سلیکٹرز کی آنکھوں کا تارہ بننے والے شعیب ملک نے صرف سات رنز پر رن آؤٹ کی شکل میں اپنی وکٹ ایک بار پھر ایسے وقت کھوئی جب ان کی کریز پر ضرورت تھی۔

آخری دس ٹی ٹوئنٹی اننگز میں شعیب ملک کا سب سے بہترین اسکور صرف چھبیس رنز رہا ہے۔

اس متواتر مایوس کن کارکردگی کے باوجود آخر ایسی کونسی گیدڑ سنگھی ہے جو انہیں ٹیم میں واپس لے آتی ہے؟۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی کھلاڑیوں میں سیلفی کا شوق

کپتان شاہد آفریدی جن کی اپنی فارم انتہائی مایوس کن ہے چھکا لگانے کے بعد اگلی ہی گیندپر عادت کے مطابق وکٹ بولر کو تحفے میں دے گئے۔

عمراکمل کی وکٹ پر موجودگی پاکستانی ٹیم کے لیے آخری امید تھی انہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں میچ کو ختم کرنا چاہیے تھا جو وہ نہ کرسکے اور یہی خامی انہیں دنیا کے بڑے بیٹسمینوں میں شامل نہیں کرسکی ہے۔

پاکستانی ٹیم تین تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری۔ وہاب ریاض محمد حفیظ اور سرفراز احمد کی جگہ عماد وسیم۔ نعمان انور اور محمد رضوان کو موقع دیا گیا۔عماد وسیم اور نعمان انور کا یہ پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل تھا۔

نعمان انور نے اس سیزن میں ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی میں شاندار بیٹنگ کی وجہ سے پاکستانی ٹیم میں جگہ بنائی ہے اس میچ میں انہوں نے دو چوکے اور ایک چھکے سے اپنا اعتماد ظاہر کیا لیکن ان کی مختصر اننگز کوئی خاص تاثر قائم نہ کرسکی۔

اس سے قبل زمبابوے نے مسلسل دوسرے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی اورپاکستانی بولرز کے ساتھ ایک بار پھر جارحانہ سلوک اختیارکیا۔ سوائے شعیب ملک کے کوئی بھی بولر نہ رنز روک سکا نہ وکٹ کے معاملے میں زیادہ کامیاب رہا۔

شاہد آفریدی اور سمیع نے ایک ایک وکٹ حاصل کرنے کے لیے فی اوور نو سے زائد رنز دیے ۔

بلاول بھٹی اور انور علی کی فی اوور رنز دینے کی اوسط دس سے بھی زیادہ تھی جبکہ اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے عماد وسیم کے دو اوورز میں چودہ رنز بننے کے بعد انہیں دوبارہ بولنگ دینے کی نوبت نہیں آئی۔

اسی بارے میں