غیرمتاثر کن بولنگ کے باوجود پاکستان کی کامیابی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ کوارٹرفائنل اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف وائٹ واش کی ہزیمت کے بعد بالآخر پہلی کامیابی دیکھی

پاکستانی ٹیم کو دونوں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں زمبابوے کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد جیت ملی تھی اور اب پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی اس کے بولرز زمبابوے کی اننگز کو آسانی سے قابو نہ کرسکے۔

پاکستانی ٹیم نے پہلا ون ڈے اگرچہ 41 رنز سے جیت لیا لیکن زمبابوے کی ٹیم نے 376 رنز کے ہدف کے تعاقب میں حوصلے نہیں ہارے اور آخر وقت تک مقابلہ کرتے ہوئے334 رنز کا سکور بنا ڈالا جس سے اس کی فائٹنگ سپرٹ ظاہر ہوتی ہے۔

چھ سال کے طویل انتظار کے بعد پاکستانی سرزمین پر کھیلے گئے اس پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں نئے ریکارڈز اور سنگ میل کی بھرمار میں پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ کوارٹرفائنل اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف وائٹ واش کی ہزیمت کے بعد بالآخر پہلی کامیابی دیکھی۔

کپتان اظہرعلی سمیت چھ کھلاڑیوں کی پاکستان میں پہلی بار ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے کی خواہش پوری ہوئی۔

شعیب ملک، محمد سمیع اور حماد اعظم دو سال بعد دوبارہ ون ڈے ٹیم کا حصہ بنے۔

ورلڈ کپ میں زمبابوے کے بولرز نے پاکستانی بیٹسمینوں کو برسبین کی وکٹ پر صرف235 رنز تک محدود رکھا تھا لیکن قذافی سٹیڈیم کی بیٹنگ کے لیے آئیڈیل وکٹ پر پاکستانی بیٹسمین زمبابوے کی بولنگ کے قابو میں نہ آ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شعیب ملک نے اپنی سنچری صرف 70 گیندوں پر مکمل کی جو پاکستان کی سر زمین پر اعجاز احمد کی 68 گیندوں کے بعد کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی دوسری تیز ترین سنچری ہے انھوں نے آخری بار ستمبر سنہ 2009 میں بھارت کے خلاف سنچورین میں سنچری بنائی تھی جس کے بعد 30 اننگز بغیر کسی نصف سنچری کے کھیل کر اب انھوں نے تین ہندسوں کی یہ اننگز کھیلی ہے

محمد حفیظ اور اظہرعلی نے 170 رنز کی شاندار شراکت سے ٹیم کے لیے ایک بڑے سکور کی بنیاد رکھ دی جس کے بعد شعیب ملک اور حارث سہیل نے رنز کی اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔

محمد حفیظ اور اظہرعلی نے سنچری سکور کرنے کا یقینی موقع گنوایا تاہم محمد حفیظ نے فارم میں واپس آ کر سکون کا سانس لیا کیونکہ بنگلہ دیش کے خلاف تین ون ڈے میں وہ صرف آٹھ رنز بناسکے تھے۔

اظہرعلی کپتان بننے کے بعد اپنی ذمہ داری کو بخوبی محسوس کر رہے ہیں انھوں نے ڈھاکہ میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری کی عمدہ کارکردگی کے تسلسل کو یہاں بھی برقرار رکھا۔

حارث سہیل بھی سنچری کے قریب آ کر اسے نہ پا سکے اور کریئر بیسٹ 89 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے لیکن شعیب ملک نے دو سال بعد ون ڈے ٹیم میں واپسی پر سنچری بنا ڈالی۔

انھوں نے آخری بار ستمبر سنہ 2009 میں بھارت کے خلاف سنچورین میں سنچری بنائی تھی جس کے بعد 30 اننگز بغیر کسی نصف سنچری کے کھیل کر اب انھوں نے تین ہندسوں کی یہ اننگز کھیلی ہے۔

شعیب ملک اور حارث سہیل نے تیسری وکٹ کی شراکت میں201 رنز کا اضافہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کپتان چگمبورا جب تک کریز پر رہے پاکستانی بولرز پریشان ہی رہے انھوں نے حماد اعظم کے گرائے گئے کیچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی پہلی سنچری بنائی

پاکستانی ٹیم نے اننگز کا اختتام 375 رنز تین کھلاڑی آؤٹ پر کیا جو پاکستان میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سکور ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چھ سال قبل جب پاکستان میں آخری ون ڈے انٹرنیشنل کھیلا گیا تھا تو اسی قذافی سٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم سری لنکا کے خلاف صرف 75 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی جو پاکستان میں اس کا سب سے کم سکور ہے۔

شعیب ملک نے اپنی سنچری صرف 70 گیندوں پر مکمل کی جو پاکستان کی سر زمین پر اعجاز احمد کی 68 گیندوں کے بعد کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی دوسری تیز ترین سنچری ہے۔

پاکستان کے ابتدائی چار بیٹسمینوں نے 50 یا زائد رنز کی اننگز کھیلیں جو پاکستان کی ون ڈے تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پہلے چار نمبر کے بیٹسمین ایک ہی اننگز میں 50 یا زائد رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔

زمبابوے نے 65 رنز پر دو وکٹیں گنوانے کے بعد مازاکادسا اور کپتان چگمبورا کے ذریعے پاکستانی بولنگ کو کڑے وقت سے گزارا لیکن ان کے درمیان124 رنز کی شراکت شعیب ملک کے ہاتھوں ٹوٹنے کے بعد مہمان ٹیم کے لیے بڑھتے ہوئے رنز اوسط کو اپنی مٹھی میں کرنا مشکل ہوتا چلا گیا۔

کپتان چگمبورا جب تک کریز پر رہے پاکستانی بولرز پریشان ہی رہے انھوں نے حماد اعظم کے گرائے گئے کیچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی پہلی سنچری بنائی۔

ان کی جارحانہ بیٹنگ کی زد میں جو بھی آیا اسے خود کو بچانا مشکل ہوگیا۔ خاص کر محمد سمیع کے لیے ٹی ٹوئنٹی میچوں کی طرح اس بار بھی رنز روکنا ممکن نہ رہا۔ چگمبورا نے ان کے ایک اوور میں تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 22 رنز بنا ڈالے۔

یہ میچ محمد سمیع اور انور علی کے لیے ڈراؤنے خواب کی مانند رہا۔ سمیع نے صرف سات اوورز میں 63 رنز دے ڈالے جبکہ انور علی کے دس اوورز میں 81 رنز بنے اور اس کارکردگی کے بعد دونوں کے لیے اگلے میچوں میں جگہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں