کرپشن کے الزامات کے باوجود فیفا کے صدارتی الیکشن وقت پر ہوں گے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعے کو ہونے والے صدارتی الیکشن میں سیپ بلیٹر کا مقابلہ پرنس علی ابن الحسین سے ہو گا

سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں پولیس کی جانب سے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کےسات سرکردہ عہدیداروں کو بطور رشوت 15 کروڑ ڈالر لینے کے جرم میں حراست میں لینے کے باوجود فیفا کے صدارتی الیکشن اپنے طے شدہ دن یعنی جمعے کو ہوں گے۔

حراست میں لیے جانے والے عہدیداروں میں فیفا کے نائب صدر جیفری ویب بھی شامل ہیں۔

2018 اور 2022 میں ہونے والے فٹ بال کے عالمی مقابلوں کی میزبانی دیے جانے کے بارے میں بھی ایک علیحدہ مجرمانہ تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

تاہم فیفانے عالمی مقابلوں کے لیے دوبارہ ووٹنگ کرانے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ فیفا کا اصرار ہے کہ عالمی مقابلوں کی میزبانی بالترتیب روس اور قطر ہی کریں گے۔

جمعے کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں سیپ بلیٹر کا مقابلہ پرنس علی ابن الحسین سے ہوگا۔ سیپ اس الیکشن میں کامیاب ہو کر پانچویں بار فیفا کے صدر کے طور پر منتخب ہونے کے خواہش مند ہیں۔

پرنس علی نے بدھ کو ہونے والے اس واقعے کو ’فٹبال کا سوگوار ترین دن‘ قرار دیا ہے تاہم انھوں نے اس کے بارے میں مزید بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

فیفا کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس قسم کے اقدامات کا خیر مقدم کیا اور کہا ہے کہ ان اقدامات سے فٹبال میں ہونے والے کسی بھی قسم کے غلط کاموں کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں پولیس نے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے سات سرکردہ عہدیداروں کو حراست میں لیا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق گرفتاریوں کا مقصد ان افراد کو امریکہ کے حوالے کرنا ہے جہاں ان پر مالی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد چھ ہے اور ان میں فیفا کے ایک نائب صدر بھی شامل ہیں۔

فیفا کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی سپورٹس کے نامہ نگار رچرڈ کونوے سے بات کرتے ہوئے گرفتاریوں کی تصدیق کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فیفا کے سینیئر اہلکار نے بی بی سی سپورٹس کے نامہ نگار رچرڈ کونوے سے بات کرتے ہوئے گرفتاریوں کی تصدیق کی

ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو زیورخ کے ہوٹل باؤر او لاک سے بدھ کو علی الصبح حراست میں لیا گیا ہے تاہم عہدیدار نے گرفتار کیے جانے والے افراد کی حتمی تعداد یا نام نہیں بتائے۔

فیفا کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے عہدیدار 28 مئی سے شروع ہونے والے تنظیم کے دو روزہ سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے زیورخ پہنچے تھے۔

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ سوئس پولیس کے اہلکاروں نے ان عہدیداران کے ہوٹل کے رجسٹریشن ڈیسک سے ان کے کمروں کی چابیاں لیں اور پھر اوپر چلے گئے۔

امریکی اخبار کے مطابق گرفتاریوں کے موقع پر کسی قسم کی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی اور کم از کم دو عہدیداران کو بغیر ہتھکڑیاں لگائے ہوٹل سے باہر لے جاتے دیکھا گیا۔

اس کے علاوہ کوسٹاریکا سے تعلق رکھنے والے فیفا کے عہدیدار ایڈوارڈو لی کو پولیس اہلکار ان کے سامان سمیت ہوٹل کے بغلی دروازے سے باہر لے کر گئے۔

فیفا کے عہدیداران پر عائد بدعنوانی کے الزامات کا تعلق گذشتہ دو دہائیوں میں فٹبال کے عالمی مقابلوں کی میزبانی کے حصول اور مقابلوں کی تشہیر اور نشریات کے معاہدوں میں کرپشن سے متعلق ہے۔

اسی بارے میں