کوہلی پر دہری ذمہ داری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کوہلی ابھی 26 سال کے ہیں اور دھونی سے سات سال چھوٹے ہیں

وراٹ کوہلی بین الاقوامی کرکٹ کے سٹار کھلاڑی ہیں، اور اب ان کے سامنے بھارتی کرکٹ ٹیم کی کپتانی اور ٹیم کو بری عادتوں سے نکالنے کی ذمہ داری بھی عائد ہو گئی ہے۔

کسی بھی دوسرے کھیل کی طرح کرکٹ میں بھی دو قسم کی غلطیاں ہوتی ہیں۔

فاش غلطی پس و پیش والی سوچ، توجہ کی عدم موجودگی اور حکمت عملی کی ناسمجھی سے پیدا ہوتی ہے۔ جبکہ اچھی غلطی کسی اچھی طرح سے سوچے سمجھے منصوبے یا پھر کسی چیز کے الٹ جانے سے ہوتی ہے۔

جوں جوں بھارت کے سب سے تجربہ کار اور کامیاب کپتان مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی آگے بڑھتی گئی، وہ فاش غلطیاں کرتے گئے۔ مثال کے طور پر بولروں کو ایک اوور کے بعد تبدیل کر دینا، یا لیگ گلی پر کسی کھلاڑی کو کھڑا کرکے ایک فیلڈر ضائع کرنا۔

اچھی قسمت اور اندھیرے میں نشانہ لگانا آپ کو ایک حد تک لے جاتا ہے۔ کھیل کی تاریخ میں ہر کپتان نے بولنگ میں ناقابل وضاحت تبدیلی کر کے یا بیٹنگ کے نمبر اوپر نیچے کر کے خطرات مول لیے ہیں اور اس کی بدولت جیت حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا ہے لیکن یہ کپتانی کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھونی ڈھلان پر ہیں جبکہ کوہلی میں صرف بہتری ہو سکتی ہے

کوہلی ابھی 26 سال کے ہیں اور دھونی سے سات سال چھوٹے ہیں۔ وہ حکمت عملی کی سطح پر ابھی خام ہو سکتے ہیں لیکن دو چیزیں ان کے حق میں جاتی ہیں: ایک مثبت رویہ اور دوسرے زبردست خود اعتمادی۔

سابق بھارتی کرکٹ کپتان ٹائيگر منصور علی خاں پٹودی کے بعد سے کسی بھی بھارتی ٹیم نے جیت کی جستجو میں ہار کو اس طرح گلے نہیں لگایا جس طرح کوہلی نے آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں دسمبر سنہ 2014 میں کیا۔

ماضی اور مستقبل میں جو واضح فرق ہے وہ یہ ہے کہ دھونی ڈھلان پر ہیں، جبکہ کوہلی میں صرف بہتری ہو سکتی ہے۔

انھیں ان تمام مشکلات کا سامنا ہو گا جو دھونی کو پیش آئیں، جیسے خراب بولنگ اٹیک، بطور خاص بیرونی سر زمین پر، ایک دن میں 50 اووروں سے زیادہ عرصے تک فیلڈ میں رہنا اور مختصر فارمیٹ کے کھیل میں جیت ٹیسٹ میچ کی ناکامی کو پورا کر دے گی، وغیرہ۔

آسٹریلیا کے گذشتہ دورے سے قبل بھارت کو 17 میں سے 13 میچوں میں شکست ہوئی ہے اور 14 ویں شکست ایڈیلیڈ میں ملی جہاں کوہلی پہلی بار کپتانی کر رہے تھے۔ لیکن اس ہار کا رنگ مختلف تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پٹودی اور مائک بریئرلی یا دوسرے کئی کپتانوں نے یہ دکھا دیا ہے کہ ان کی ٹیم اپنی صلاحیت سے بہتر کھیل کا مظاہرہ کر سکتی ہے

یہاں ٹالسٹائی کے ناول آنا کرینینا کا اصول عائد ہوتا ہے کہ ’تمام خوش و خرم خاندان ایک طرح کے ہوتے ہیں جبکہ تمام ناخوش خاندان اپنے اپنے اعتبار سے پریشان ہوتے ہیں۔‘

اسی طرح تمام فتوحات یکساں ہوتی ہیں، لیکن ہر شکست منفرد ہوتی ہے۔

بھارت ایک دن میں 364 رنز بنانے کے اعزاز کے لیے نکل پڑا تھا اور اس کے بہت قریب بھی پہنچ گیا تھا۔

کوہلی نے کہا کہ ڈرا کے لیے کھیلنا کوئی متبادل نہیں تھا۔ شاید وہ اس بات سے واقف تھے کہ بھارت کے پاس میچ جیتنے کے لیے بلے باز تو ہیں لیکن میچ کو ڈرا کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ اس میں پھر بھی ایک موقع تھا۔ رجائیت وبا کی طرح ہے اور یہ ایسے کپتان کو ضرور لگ سکتی ہے جو اس سے پُر ہو۔

کوہلی نے جب سے بھارت کو انڈر 19 عالمی کپ میں فتح سے ہمکنار کیا تب سےان میں یہ چیز نظر آتی ہے اور انھیں مستقبل کے کپتان کے طور پر نشان زد کر لیا گیا۔

آئی پی ایل کی کارکردگی پر بہت سوالات ہو سکتے ہیں لیکن کوہلی کے معاملے انھیں اس سے مدد ملی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اپنے بہت سے طریقے اپنانے کے بعد کوہلی میں اب ٹھہراؤ آ گیا ہے۔ ان کی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور کے کوچ رے جیننگز نے انھیں بتایا کہ ان کی انڈر 19 کی جیت جلد بھلا دی جائے گی اور انھیں ایک بالغ کرکٹر کے طور پر دیکھا جائے گا۔ انیل کمبلے نے اس توانائی کو درست سمت میں مرکوز کرنے میں تعاون کیا اور انھیں بڑے کام کی امید میں کپتان بنا دیا گیا۔

ون ڈے میں کوہلی کی کپتانی جیت حاصل کرنے کی اور جارحانہ رہی ہے اور ٹیسٹ میں ابھی انھیں سیکھنا ہے اور ان کے بولروں کو بھی صبر اور طویل مدتی حکمت عملی سیکھنی ہے۔

بھارتی کرکٹ کو دھونی کی چیزوں کو نکلتے جانے دینے کی عادت اور کوہلی کی جلد بازی کی طبیعت کے درمیان توازن تلاش کرنا ہو گا۔ طویل دورانیے کے کھیل میں مچھلی پکڑنے کی حکمت عملی کا عنصر ہے۔ آپ چارہ ڈال دیتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں اور کوہلی کو انتظار کا کھیل سیکھنا ہے۔

یاتو یہ مختصر فارمیٹ اور بہت زیادہ میچ کھیلنے کا نتیجہ ہے یا پھر رویے کا معاملہ ہے، بات کچھ بھی ہو بھارتی کرکٹ بے صبری سے دو چار ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیت سے کم مظاہرہ کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption بھارتی بولروں کو ٹیسٹ میچ کے صبر آزما فارمیٹ میں بولنگ کرنا سیکھنا ہو گا

بولر وکٹ لینے کی جلد بازی میں ہوتے ہیں یا پھر اپنا اوور پورا کرنا چاہتے ہیں اور بیٹسمین شاید سیشن کے حساب سے کھیلنا بھول چکے ہیں۔ کوہلی کو اپنی ٹیم کو ان خراب عادتوں سے چھٹکارا دلانا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جتنی اچھی ٹیم ہوتی ہے اتنا اچھا کپتان ہوتا ہے، لیکن پٹودی اور مائک بریئرلی یا دوسرے کئی کپتانوں نے یہ دکھا دیا ہے کہ ان کی ٹیم اپنی صلاحیت سے بہتر کھیل کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔

کوہلی کو یہ برتری حاصل ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے بہترین بلے باز ہیں اور اس کام کے لیے کوئی دوسرا بہت نزدیکی دعویدار نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں انھیں کپتان کے طور پر خود کو سنوارنے کا پورا موقع ہو گا اور انھیں بار بار پلٹ کر نہ دیکھنا ہوگا جیسا کہ سابق بھارتی کپتانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

ان میں یہ قابلیت ہے کہ وہ ایک عہد پر اپنا نام ثبت کر دیں۔

اسی بارے میں