دھونی اور مستفیض الرحمٰن پر جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسی اننگز میں اس سے قبل مستفیض الرحمٰن کی روہت شرما کے ساتھ بھی ٹکر ہوئی تھی

بھارت کی ون ڈے ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اور اپنے کیریئر کا پہلا میچ کھیلنے والے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو میرپور میں کھیلے گئے پہلے ایک روزہ میچ میں ایک دوسرے سے ٹکر مارنے پر جرمانہ کیا گیا ہے۔

معروف ویب سائٹ کرِک انفو کے مطابق دھونی کو اپنی میچ فیس کا 75 فیصد جرمانہ کیا گیا ہے، جبکہ مستفیض الرحمٰن کو میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ بھارتی اننگز کے 25ویں اوور میں اس وقت پیش آیا جب دھونی نے مستفیض الرحمٰن کی گیند پر سنگل لینے کی کوشش کی۔ مستفیض الرحمٰن جو کہ بائیں بازو سے گیند کرتے ہیں، اپنے فالو تھرو میں دھونی کے راستے میں آ گئے اور بظاہر دھونی نے انھیں دھکا دیا۔

مستفیض الرحمٰن کو چوٹ کے باعث تھوڑی دیر کے لیے گراؤنڈ چھوڑنا پڑا تاہم بعد میں آ کر انھوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

اسی اننگز میں اس سے قبل مستفیض الرحمٰن کی روہت شرما کے ساتھ بھی ٹکر ہوئی تھی۔

ای ایس پی این کرک انفو کی معلومات کے مطابق ابتدا میں صرف دھونی کے خلاف ہی کارروائی کی جانی تھی تاہم بھارتی ٹیم نے اس کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا۔ دھونی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹکر سے بچنے کی پوری کوشش کی تھی جو کہ اس بات سے واضح ہے کہ انھوں نے اپنا بلا دائیں ہاتھ میں منتقل کیا اور اپنے سر کو دور کیا۔

بھارتی موقف میں یہ بھی کہا گیا کہ دھونی اپنے دائیں جانب نہیں جا سکتے تھے کیونکہ سریش رائنا وہاں پر ببہت قریب بھاگ رہے تھے۔ واقعے کی ویڈیو تفتیش کے دوران بار بار دیکھی گئی۔

جب مستفیض الرحمٰن کو تفتیش کے لیے بلایا گیا تو ان کا بھی یہی موقف تھا کہ قصور ان کا نہیں۔ آئی سی سی نے آخر میں دونوں کو ہی قصور وار ٹھہرایا۔ میچ ریفری اینڈی پائیکروفٹ تھے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر ناظم الحسن نے کہا کہ انھیں دھونی کا رویہ بالکل پسند نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں دھونی سے ایسی امید نہیں تھی۔

اسی بارے میں