پاکستان ٹیم کی نظریں اب سیریز کی جیت پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption موجودہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں دس وکٹوں کی جیت نے سیریز جیتنے کے لیے پاکستان کے اعتماد میں اضافہ کر دیا ہے

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ جمعرات سے پی سارا اوول کولمبو میں شروع ہورہا ہے اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نظریں سری لنکا کی سرزمین پر نو سال میں پہلی ٹیسٹ سیریز کی جیت پر مرکوز ہیں۔

پاکستانی ٹیم نے آخری بار سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز سنہ 2006 میں انضمام الحق کی قیادت میں جیتی تھی۔ جس کے بعد لگاتار تین ٹیسٹ سیریزوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم موجودہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں دس وکٹوں کی جیت نے سیریز جیتنے کے لیے اس کے اعتماد میں اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستانی بیٹسمینوں کو ایک بار پھر رنگانا ہیراتھ کےخلاف اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہو گا۔گال ٹیسٹ میں انھوں نے ہیراتھ کے خلاف بڑی عمدہ بیٹنگ کی تھی جس کے نتیجے میں لیفٹ آرم سپنر صرف ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے تھے۔

ہیراتھ کے برعکس پاکستانی سپنرز نے گال ٹیسٹ میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے سری لنکا کی گرنے والی 20 میں سے 15 وکٹیں حاصل کیں۔

لیگ سپنر یاسر شاہ نے اپنے ٹیسٹ کریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 76 رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں۔

پی سارا اوول میں کھیلے گئے چار ٹیسٹ میچوں میں رنگانا ہیراتھ نے 24 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں، جو مرلی دھرن کی 52 وکٹوں کے بعد دوسری بہترین کارکردگی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگاکارا پی سارا اوول میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں

کمار سنگاکارا کا یہ پاکستان کے خلاف آخری ٹیسٹ ہے۔

وہ اس میچ کے بعد انگلینڈ چلے جائیں گے جہاں وہ سرے کاؤنٹی کی طرف سے میچ کھیلنے کے بعد دوبارہ سری لنکا آئیں گے اور بھارت کےخلاف ایک ٹیسٹ میچ کھیل کر انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔

سنگاکارا پی سارا اوول میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں۔ انھوں نے دس ٹیسٹ میچوں میں دو سنچریوں اور چار نصف سنچریوں کی مدد سے 821 رنز بنائے ہیں۔

کولمبو کا پی سارا اوول سری لنکا کے لیے تاریخی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس میدان میں عظیم سرڈان بریڈمین نے ایک میچ کھیلا تھا۔

سری لنکا نے سنہ 1982 میں اپنا اولین ٹیسٹ میچ اسی میدان میں کھیلا اور پھر سنہ 1985 میں اس نے اسی میدان میں اپنی پہلی ٹیسٹ کامیابی بھارت کےخلاف حاصل کی تھی۔

تاہم حالیہ برسوں میں یہ گراؤنڈ سری لنکن ٹیم کے لیے خوش قسمت ثابت نہیں ہوا اور اسے بھارت، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف آخری تین ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پی سارا اوول میں کھیلے گئے آخری آٹھ ٹیسٹ میچ نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں