یونس خان اہم سنگ میل کے قریب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے یونس خان دنیا کے چند بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سنچری سکور کی ہے

کسی بھی کرکٹر کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کریئر اس کے پہلے ٹیسٹ سے کتنا آگے جائے گا؟ کئی کرکٹرز کے لیے تو ان کے اولین ٹیسٹ ہی آخری ثابت ہو جاتے ہیں لیکن جن کو بین الاقوامی کرکٹ کی سختی جھیلنے کا ہنر آتا ہے ان کے کریئر طول پکڑ جاتے ہیں۔

یونس خان نے جب اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا تو یقیناً انھیں بھی اس کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ کتنا عرصہ کھیلیں گے لیکن آج وہ اپنے 15 سالہ کریئر میں 100 ویں ٹیسٹ کی شکل میں ایک اہم سنگ میل عبور کر رہے ہیں۔

کسی بھی کرکٹر کو پرکھنے کا سادہ لیکن بنیادی پیمانہ اعدادو شمار ہیں اور اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ یونس خان کوئی عام کرکٹر نہیں ہیں۔ وہ ان چند بیٹسمینوں میں شامل ہیں جنھیں اپنے اولین ٹیسٹ میچ میں سنچری سکور کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

یونس خان پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں سکور کرنے والے بیٹسمین ہیں۔

وہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ مجموعی رنز کا ریکارڈ اپنے نام کرنے کے بہت قریب ہیں۔

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے یونس خان دنیا کے چند بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سنچری سکور کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونس خان پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ مجموعی رنز کا ریکارڈ اپنے نام کرنے کے بہت قریب ہیں

اس کے باوجود آخر کیا سبب ہے کہ یونس خان کو پاکستان کے عظیم بیٹسمینوں کے تذکرے میں وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ حقدار ہیں؟

اس تذکرے میں حنیف محمد، جاوید میانداد، ظہیرعباس اور انضمام الحق چھائے رہتے ہیں اور پھر کہیں جا کر یونس خان کی بات بھی ہونے لگتی ہے۔ لیکن یونس خان نے کبھی بھی اس بات کو اہمیت نہیں دی ہے کہ انھیں عظیم کرکٹرز میں کس درجے پر فائز کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے پہلے ٹیسٹ سے آج تک صرف ایک مقصد کے تحت کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اور وہ ہے پاکستانی ٹیم۔

یونس خان بجا طور پر ٹیم مین ہیں جنھوں نے اپنا پورا کریئر ٹیم کی ضرورت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گزارا ہے۔ ان کی ہر اننگز میں خود غرضی نہیں بلکہ بے غرضی جھلکتی ہے۔ وہ جب بھی کھیلتے ہیں اپنے لیے نہیں بلکہ ٹیم کے لیے کھیلتے ہیں۔

یونس خان کے لیے مشہور ہے کہ وہ موڈی ہیں۔ یہ بات اس لیے درست ہے کہ اپنے مزاج کےخلاف بات برداشت نہ ہو تو وہ کپتانی کا تاج بھی سر سے اتار پھینکتے ہیں اور جب بات آ جائے حب الوطنی پر شک کرنے کی تو پھر وہ کسی کے قابو میں نہیں آتے۔

ایک رکن قومی اسمبلی نے ان پر میچ فکسنگ کا شک ظاہر کردیا تو انھوں نے اسی وقت کپتانی ان کے منہ پر دے ماری۔

کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ یونس خان کی ٹیم میں موجودگی انتشار کا سبب بن سکتی ہے ؟

ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان پر یہ الزام بھی لگا اور غیر معینہ مدت کے لیے ان پر ٹیم کے دروازے بند کرنے کا حکم صادر کردیا گیا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو انھیں دوبارہ ٹیم میں لینا پڑا۔

یونس خان نے اپنے کریئر میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھنے کے باوجود اپنے مخالفین کرکٹرز کو بھی اپنے حسن اخلاق سے فتح کیا ہے لیکن سب سے بڑی فتح وہ حریف بولرز کے خلاف حاصل کرتے آئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج وہ پاکستانی بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں