بڑا سکور اور بڑی برتری خواب ہی رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اظہرعلی کے علاوہ دیگر بیٹسمینوں کی کارکردگی کو یقیناً مایوس کن رہی۔

سری لنکا کو کولمبو ٹیسٹ جیت کرپاکستان کے خلاف سیریز برابر کرنے کے لیے 153 رنز کا ہدف ملا ہے۔

پاکستانی بیٹسمینوں نے دوسری اننگز میں ایک بڑا سکور کرکے بڑی برتری حاصل کرنے کا موقع گنوادیا حالانکہ تیسرے دن احمد شہزاد اور اظہرعلی کی سنچری شراکت اور اس کے بعد اظہرعلی اور یونس خان کی کریز پر موجودگی اور پھر بقیہ دوسرے بیٹسمینوں کے ہونے سے قوی امید تھی کہ پاکستانی ٹیم محفوظ پوزیشن میں آجائے گی۔

لیکن ایسا نہ ہوسکا اور وہ177 رنز کے خسارے کو صرف 152 رنز کی برتری میں تبدیل کرسکی۔

اظہرعلی نے اپنی نویں اور سری لنکا کے خلاف پانچویں سنچری اسکور کی۔

پاکستانی اننگز انھی کے گرد گھومتی رہی لیکن انھوں نے ضرورت سے زیادہ خود کو دفاعی حصار میں بند کیے رکھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے 117 رنز میں صرف چھ چوکے شامل تھے۔انھوں نے 308 گیندوں کا سامنا کیا اور ان کا اسٹرائیک ریٹ صرف 38 تھا۔

یہ درست ہے کہ اظہرعلی کے سامنے ان کے تمام تجربہ کار بیٹسمین آؤٹ ہوتے رہے لیکن اگر وہ اسٹرائیک ریٹ کو تیز رکھتے تو پاکستانی ٹیم کو کچھ اور قیمتی رنز حاصل ہوسکتے تھے۔

اظہرعلی کے علاوہ دیگر بیٹسمینوں کی کارکردگی کو یقیناً مایوس کن ہی کہا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی دوسرا بیٹسمین وکٹ پر زیادہ دیر ٹھہر کر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہا۔

یونس خان تیسرے دن مثبت انداز میں کھیل رہے تھے لیکن 40 کے انفرادی اسکور پر ان کی وکٹ گرنے کے بعد سری لنکا کو پاکستانی بیٹنگ لائن کو بکھیرنے کا راستہ مل گیا۔

مصباح الحق 22 رنز بناکر نئی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے ان کا ریویو بھی کام نہ آیا۔

اسد شفیق اور سرفراز احمد نے وکٹ کیپر چندی مل کو کیچز تھمائے جنہوں نے جنید خان کا کیچ لے کر اس اننگز کا اختتام پانچ کیچز اور ایک سٹمپڈ کی شاندار کارکردگی پر کیا۔

30 سال کے طویل عرصے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سری لنکن وکٹ کیپر نے ٹیسٹ کی ایک اننگز میں چھ شکار کیے ہیں۔ ان سے قبل سنہ 1985 میں امل سلوا نے بھارت کے خلاف یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی بیٹنگ لائن کو تتر بتر کرنے والے تیز بولرز دھمیکا پرساد اور دشمانتھا چمیرا تھے۔

پاکستانی بیٹنگ لائن کو تتر بتر کرنے والے تیز بولرز دھمیکا پرساد اور دشمانتھا چمیرا تھے۔پرساد نے چار اور چمیرا نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

پہلے ٹیسٹ کی طرح اس بار بھی رنگانا ہیراتھ کو اظہرعلی کی وکٹ ہی مل سکی۔

پاکستانی ٹیم سری لنکا کو جیت سے روکنے کے لیے اب یاسر شاہ اور بارش کی طرف دیکھ رہی ہے۔