پاکستانی ٹیم کے لیے حالات اچھے نہیں ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دن کے اختتام پر اینجیلو میتھیوز پانچویں ٹیسٹ سنچری کی طرف بڑھتے ہوئے77 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

پالیکیلے ٹیسٹ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے صورتحال کولمبو سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔

کپتان مصباح الحق یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر پاکستانی بیٹسمین پہلی اننگز میں بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو دباؤ پاکستان کے بجائے سری لنکا پر ہوتا۔

سری لنکا نے پاکستان کو پہلی اننگز میں صرف 215 رنز پر آؤٹ کر کے دوسری اننگز میں اپنا سکور 228 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ تک پہنچا دیا اور یوں اسے 291 رنز کی برتری حاصل ہوچکی ہے۔ سری لنکا کی پانچ وکٹیں اور دو دن کا کھیل ابھی باقی ہیں۔

پاکستانی بیٹنگ کا اس سیریز میں جو حال رہا ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے آثار اچھے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ سری لنکا کو تیسرے دن پاکستانی اننگز سمیٹنے میں صرف دو اوورز لگے۔

آف سپنر کوشل نے عمران خان کو صفر پر بولڈ کر کے ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا پہلا رن بنانے کا انتظار مزید بڑھا دیا۔

سرفراز احمد کی بدقسمتی کہ ان کا ساتھ دینے کے لیے کوئی نہ بچا اور وہ 78 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے، تاہم وہ اینڈی فلاور اور اے بی ڈی ویلیئرز کے بعد ایک ہزار سے زائد رنز بنانے والے ایسے تیسرے وکٹ کیپر بیٹسمین بن گئے ہیں جن کی بیٹنگ اوسط 50 سے زائد رنز کی ہے۔

سری لنکا کے تین بولرز کے درمیان تین تین وکٹوں کی مساوی تقسیم ہوم ٹیسٹ میچ میں ایسی پہلی مثال بنی ہے۔

پاکستانی ٹیم نے 63 رنز کے خسارے میں جانے کے بعد جب فیلڈ سنبھالی تو اسے راحت علی نے دو اہم کامیابیاں دلا دیں جنھوں نے وہاب ریاض کی غیرموجودگی میں اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے نئی گیند کے ساتھ بہت ہی عمدہ بولنگ کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کرونا رتنے اور تھری مانے راحت علی کی گیند پر کلین بولڈ ہوئے

راحت علی نے پہلی اننگز کے سنچری میکر کرونا رتنے اور اس کے بعد تھری مانے کی وکٹیں حاصل کیں۔تھری مانے 11 گیندوں پر رن بنانے کی ناکام کوشش کے بعد یارکر پر بولڈ ہوئے۔

احسان عادل نے کوشل سلوا کو آؤٹ کیا جبکہ اپل تھرنگا یاسر شاہ کا شکار بنے۔

80 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد کپتان اینجیلو میتھیوز اور جیہان مبارک سکور کو 161 تک لے گئے۔

جیہان مبارک کی اننگز یاسر شاہ نے ختم کی لیکن اینجیلو میتھیوز پانچویں ٹیسٹ سنچری کی طرف بڑھتے ہوئے77 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

پاکستانی ٹیم نے میتھیوز کے خلاف راحت علی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو مسترد کیے جانے پر ریویو بھی لیا جو ضائع گیا جبکہ عمران خان کی گیند پر تھرنگا کے خلاف ریویو لیا جاسکتا تھا لیکن پاکستانی ٹیم نے نظرِ ثانی کے لیے نہیں کہا۔

اسی بارے میں