فیفا نے بلیزر پر تاحیات پابندی لگا دی

بلیزر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بلیزر سے 1997 سے لے کر 2013 تک فیفا کی ایگزیکٹیو کمیٹی میں خدمات سر انجام کی ہیں

فیفا نے سابق ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن اور سابق کونکاکیف جنرل سیکریٹری چک بلیزر کے فٹبال سے منسلک کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی لگا دی ہے۔

70 بلیزر نے رشوت، منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کرنے کے الزامات تسلیم کرنے کے بعد امریکہ میں پراسیکیوٹرز کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر کام کرنا شروع کیا تھا۔

مئی میں کئی فیفا اہلکاروں کو غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ہونے اور فراڈ اور منی لانڈرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

فیفا کے ایک بیان کے مطابق بلیزر نے ’مجرمانہ غلط روی کے مختلف عمل کیے ہیں۔‘

ابھی تک 14 افراد پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے اور امریکی محکمۂ انصاف نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 برسوں میں تقریباً 15 کروڑ ڈالر کی رشوتیں اور کک بیکس لی گئی ہیں۔

بلیزر فیفا کے شمالی اور مرکزی امریکہ اور کیریبیائی علاقے (کونکاکیف) میں 1990 سے 2011 تک دوسرے سب سے اعلیٰ اہلکار تھے اور انھوں نے 1997 سے لے کر 2013 تک فیفا کی ایگزیکٹیو کمیٹی میں بھی خدمات سرانجام دی تھیں۔

2013 میں امریکہ میں ایک سماعت کے دوران امریکی شہری بلیزر نے اپنے اوپر لگائے گئے دس الزامات تسلیم کر لیے تھے۔

بلیزر نے تسلیم کیا تھا کہ انھوں نے اور فیفا کی گورننگ باڈی کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے دیگر اراکین نے 2010 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ کو دینے کے لیے رشوت لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ FIFA
Image caption فیفا کی کئی سینیئر اراکین پر رشوت ستانی اور کرپشن کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں

انھوں نے کہا کہ انھوں نے 1998 میں بھی رشوت لینے کے عمل میں سہولت فراہم کی تھی۔

امریکی پراسیکیوٹرز کی ایک دستاویز کے مطابق بلیزر 2011 سے ان کے ساتھ خفیہ طور پر تعاون کر رہے تھے۔

نیو یارک ڈیلی نیوز نے 2014 میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ بلیزر نے 2012 میں فیفا ایگزیکٹیوز کی لندن اولمپکس کی ایک میٹنگ میں ایک آلے کے ذریعے ریکارڈنگ کی تھی۔

فیفا نے بلیزر کی ’خرابیِ صحت‘ کی وجہ سے ان کے متعلق تحقیقات معطل کر دی تھیں لیکن دسمبر 2014 انھیں دوبارہ شروع کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل ’فیفا‘ کے صدر سیپ بلیٹر بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ سنہ 2018 اور 2022 کے عالمی مقابلوں کی میزبانی کے لیے رائے شماری سے پہلے فرانس اور جرمنی کے صدور نے تنظیم پر سیاسی دباؤ ڈالا تھا۔

سیپ بلیٹر نے الزام لگایا تھا کہ جب سنہ 2010 میں بالترتیب قطر اور روس میں عالمی مقابلے کرانے کے لیے رائے شماری کی جاری رہی تھی تو تنظیم پر فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی اور ان کے جرمن ہم منصب کرسچن ولف نے دباؤ ڈالا تھا۔

79 سالہ بلیٹر کے بقول ’یہی وجہ ہے کہ (2022 کا) ورلڈ کپ قطر میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ان دنوں تنظیم پر اس مبینہ سیاسی دباؤ کی بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں