فکسنگ سکینڈل پر بڑے کھلاڑی خاموش کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پردیپ میگزین کے خیال میں بھارتی کرکٹ کے بڑے کھلاڑی بھی کرکٹ بورڈ سے ڈرتے ہیں

1990 کی دہائی کے آخر میں میچ فکسنگ سکینڈل نے بھارتی کرکٹ کو ہلایا اور پھر اس کے بعد دو برس قبل آئی پی ایل میں سامنے آنے والے سپاٹ فکسنگ سکینڈل سے ایک بار پھر بھارتی کرکٹ کی ساکھ کو دھکا لگا۔

لیکن کبھی بھی بڑے کھلاڑیوں نے اس معاملے پر کچھ نہیں کہا۔

بھارت میں کرکٹ کو نقصان پہنچانے والے اس سنگین مسئلے پر سچن تندولکر، راہول ڈریوڈ جیسے بڑے کھلاڑیوں کی خاموشی، کرکٹ کے شائقین کو ہمیشہ بےچین کرتی رہی ہے۔

کرکٹ کے ماہر اور سینیئر صحافی پردیپ میگزین کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال سے ہندوستان میں کرکٹ کا سٹركچر کچھ ایسا ہے کہ کھلاڑی، ہمیشہ بی سی سی آئی کے حکام سے ڈرتے ہیں۔ بڑے کھلاڑی بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں افسر خفا نہ ہو جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چنئی سپر کنگز میں گروناتھ ميپن کا نام سامنے آیا اور دھونی نے اس پر کبھی کچھ نہیں کہا۔ اسی طرح سے راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں کا نام فکسنگ میں آیا اور اس کے مالک راج کندرا پر سوال اٹھے لیکن اس سب کے باوجود ٹیم کے سینیئر کھلاڑی راہول ڈریوڈ کبھی کچھ نہیں بولے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption راہول ڈریوڈ دو سال کی پابندی کا شکار آئی پی ایل کی ٹیم راجستھان رائلز کے سینیئر رکن ہیں

پردیپ کے خیال میں فکسنگ کے بار بار سامنے آنے سے کرکٹ کی ساکھ کو دھچکا پہنچتا رہا اور ایسے میں سینیئر کھلاڑیوں کا خاموش رہنا بالکل غلط تھا۔

’مجھے لگتا ہے کہ ان بڑے کھلاڑیوں کو کھل کر اپنی بات سامنے رکھنی چاہیے۔ ان کی ساکھ اتنی بڑی ہے، لوگوں میں وہ اتنے مقبول ہیں کہ بورڈ ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔‘

جسٹس مدگل نے سپریم کورٹ کو جو بند لفافہ دیا ہے اس کے بارے میں قیاس ہے کہ اس میں 13 کھلاڑیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ پھر ان کے نام اب تک کیوں عام نہیں کیے گئے؟

اس سوال پر پردیپ میگزین کا کہنا ہے کہ، ’میرے خیال سے ان کھلاڑیوں کے خلاف شاید کافی ثبوت نہ ملے ہوں۔ تو ایسے میں خوف ہو کہ ان کے نام عام کرنے پر بلاوجہ ان کی بدنامی ہوگی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بی سی سی آئی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے بارے میں بھی کئی باتیں ہیں کہ اس نے اس معاملے کی تحقیقات میں تعاون نہیں کیا لیکن ہاں، ان کھلاڑیوں کے ناموں کے بارے میں وضاحت کی جانی ضروری ہے۔‘

اسی بارے میں