چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستانی شرکت کے امکانات مزید روشن

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شعیب ملک اور سرفراز احمد کی موجودگی میں پاکستان نے جب سات وکٹوں سے میچ جیتا تو 55 گیندیں اب بھی باقی تھیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ کے بعد ون ڈے سیریز بھی جیتنے میں کامیاب رہی اور یہ سنہ 2006 کے بعد پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے سری لنکا کی سر زمین پر ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ون ڈے سیریز بھی جیتی ہے۔

یہ وقار یونس کی کوچ کی حیثیت سے ان کی موجودہ مدت میں ملک سے باہر پہلی سیریز جیت بھی ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سیریز کی جیت نے چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کے امکانات مزید بڑھا دیے ہیں۔

مصباح الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز جیت کر ون ڈے ٹیم کے لیے ماحول بنا کر گئی تھی اور اظہر علی اور ان کے کھلاڑی اس ٹیمپو کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

پاکستانی ٹیم کے نقطۂ نظر سےخوش آئند بات اس کے نوجوان کھلاڑیوں کی عمدہ فیلڈنگ تھی۔

اینجلو میتھیوز اس دورے میں پہلی بار ٹاس جیتنے میں کامیاب ہوئے لیکن میچ کی دوسری ہی گیند پر عرفان نے خطرناک بیٹسمین کوشل پریرا کی وکٹ حاصل کرکے میزبان ٹیم کو زبردست دھچکا پہنچایا۔

تلکارتنے دلشن اور لاہیرو تھری مانے کے درمیان سنچری شراکت نے سری لنکن اننگز کو استحکام دیا لیکن اننگز کے درمیانی اوورز میں پاکستانی بولرز کی عمدہ بولنگ اور فیلڈنگ نے توازن ایک بار پھر مہمان ٹیم کی جانب کر دیا۔

تھری مانے دس رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کرسکے۔

دلشن سیریز میں پہلی نصف سنچری بنا کر آؤٹ ہوئے جس بعد میتھیوز اور چندی مل پاکستانی بولرز کا حصار توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

یاسر شاہ، عماد وسیم اور شعیب ملک کے سپن ٹرائیکا نے 24 اوورز میں صرف 108 رنز دیے جبکہ عرفان انور اور راحت کے پیس اٹیک نے چھ وکٹوں پر ہاتھ صاف کر ڈالا۔

سری لنکن ٹیم آخری 15 اوورز میں 94 رنز بنانے میں ہی کامیاب ہوسکی اور اس نے اننگز کا اختتام 256 رنز نو کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ وقار یونس کی کوچ کی حیثیت سے ان کی موجودہ مدت میں ملک سے باہر پہلی سیریز جیت بھی ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سیریز کی جیت نے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی شرکت کے امکانات مزید بڑھا دیے ہیں

پاکستانی اننگز پراعتماد انداز میں شروع ہوئی۔ کپتان اظہرعلی ابتدا ہی سے جارحانہ موڈ میں نظرآئے اور احمد شہزاد نے بھی سیٹ ہونے کے بعد بولرز پر خوب غصہ اتارا۔

ان دونوں کی 75 رنز کی شراکت کے نتیجے میں ہدف تک پہنچنا آسان ہوگیا۔

یہ اس سال پاکستان کی جانب سے 50 سے زیادہ رنز کی نویں اوپننگ شراکت تھی جو کسی بھی ٹیم کی اس سال کی سب سے بہترین کارکردگی ہے۔

اظہرعلی کے 33 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد احمد شہزاد اور محمد حفیظ کی 115 رنز کی شراکت پاکستانی ٹیم کو جیت کی جانب لے گئی۔

احمد شہزاد کوشل پریرا کے خوبصورت کیچ کی وجہ سے صرف پانچ رنز کی کمی سے اپنی ساتویں سنچری مکمل نہ کر سکے۔

محمد حفیظ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہو گئی ہے کہ گیند اب ان کے ہاتھ میں نہیں ہے اور بیٹسمین کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے ان پر بڑے سکور کے لیے کتنا دباؤ ہے لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ بھی قابل ذکر اننگز کھیل کر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔

پہلے میچ میں سنچری اور تیسرے میچ میں نصف سنچری کے بعد اب انھوں نے ایک اور عمدہ اننگز کھیلتے ہوئے 70 رنز بنا ڈالے۔

وہ جب آؤٹ ہوئے تو پاکستانی ٹیم جیت سےصرف 44 رنز کی دوری پر تھی۔

شعیب ملک اور سرفراز احمد کی موجودگی میں پاکستان نے جب سات وکٹوں سے میچ جیتا تو 55 گیندیں اب بھی باقی تھیں۔

شعیب ملک نے چار چھکے لگا کر جیت کا جشن منانے کے لیے ایک اور ڈانس پارٹی کا سبب فراہم کر دیا۔

اسی بارے میں