’سیپ بلیٹر نوبیل انعام کے حقدار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلیٹر جیسے لوگوں یا پھر عالمی کھیلوں کی فیڈریشن یا اولمپکس گیمز سے منسلک سربراہان کی خصوصی طور پر قدر کی جانی چاہیے

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر سیپ بلیٹر امن کے نوبیل انعام کے حقدار ہیں۔

قطر میں ورلڈ کپ کے لیے سیاسی دباؤ

کھیل میں کوئی جگہ نہیں

خیال رہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے۔ سنہ 2018 کے عالمی کپ کی میزبانی روس کو دیے جانے کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نےالزام عائد کیا تھا کہ جب سنہ 2010 میں بالترتیب قطر اور روس میں عالمی مقابلے کرانے کے لیے رائے شماری کی جاری رہی تھی تو تنظیم پر فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی اور ان کے جرمن ہم منصب کرسچن ولف نے دباؤ ڈالا تھا۔

روس کے صدر نے سوئس ٹی وی کو پیر کودیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ بلیٹر جیسے لوگوں یا پھر عالمی کھیلوں کی فیڈریشن یا اولمپکس گیمز سے منسلک سربراہان کی خصوصی طور پر قدر کی جانی چاہیے۔

’اگر کوئی ہے جو نوبیل انعام کا حقدار ہے تو وہ یہ ہیں۔

یاد رہے کہ سیپ بلیٹر نے اعلان کیا تھا کہ وہ دو جون کو اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں جس کی وجہ فیفا کے سات عہدے داروں کی گرفتاری اور امریکہ میں جاری تحقیقات بنی۔ ان تحقیقات میں مجموعی طور پر 14 افراد پر فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔

اسی طرح سوئس حکام الگ سے اس بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں کہ کس طرح سنہ 2018 اور 2022 کے عالمی کپ کی میزبانی مختلف ممالک کو دی گئی تھی۔

79 سالہ سیپ بلیٹر نے اپنے بعد کے بیان میں کہا کہ وہ پنی جگہ نئے عہدے دار کے چناؤ جو کہ آئندہ سال فروری میں ہو رہا ہے تک اپنا کام جاری رکھیں گے۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کا ضمیر صاف ہے۔

ولادی میر پوتن کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت سیپ بلیٹر کے اردگرد جو حالات پیدا ہو رہے ہیں وہ اس سے آگاہ ہیں۔

’میں ان تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، مگر میں ان کے کرپشن میں ملوث ہونے کے بارے میں کہے جانے والے کسی لفظ پر یقین نہیں رکھتا۔‘

اسی بارے میں