پاکستان سپر لیگ ، توقعات اور خدشات

تصویر کے کاپی رائٹ Pakistan Cricket Board
Image caption اس وقت بھی بورڈ نے سپر لیگ کے لیے بھاری تنخواہوں اور مراعات پر سٹاف کی خدمات حاصل کررکھی ہیں(فائل فوٹو)

پاکستان کرکٹ بورڈ کو یقین ہے کہ وہ اپنی پہلی ٹی ٹوئنٹی لیگ کا کامیابی سے انعقاد کرسکے گا۔

اس لیگ کو جسے پاکستان سپر لیگ کا نام دیا گیا ہے آئندہ سال فرور، مارچ میں ملک سے باہر کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے باوجود یہ بات پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ فوری طور پر بڑی ٹیمیں اور بڑے کھلاڑی پاکستان آکر کھیلنے کے لیے تیار نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ یہ لیگ متحدہ عرب امارات میں کرانا چاہتا ہے لیکن جن تاریخوں میں وہ یہ لیگ کرانا چاہتا ہے انھی تاریخوں میں ایک بزنس مین نے متحدہ عرب امارات میں ماسٹر لیگ کے نام سے ایک ایونٹ کرانے کا اعلان کررکھا ہے اور اس بزنس مین نے ایمریٹس کرکٹ بورڈ سے شارجہ دبئی اور ابوظہبی کے گراؤنڈز بھی حاصل کرلیے ہیں۔

اس صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے متبادل کے طور پرقطر کے دارالحکومت دوہا کا انتخاب کیا ہے۔

دوہا حالیہ برسوں میں بین الاقوامی کھیلوں کے اہم مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے تاہم وہاں کرکٹ کا صرف ایک ہی سٹیڈیم ہے جس میں دو پچز ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے کیوریٹرز دوہا بھیجے تھے جن کا یہ کہنا ہے کہ مزید دو پچز تیار ہوسکتی ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیرغور یہ سوال ہے کہ تین ہفتے کی کرکٹ ایک ہی اسٹیڈیم میں شائقین اور براڈ کاسٹر کی کتنی توجہ حاصل کرسکے گی؟۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس سپرلیگ میں پانچ فرنچائز ٹیمیں حصہ لیں گی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے سپرلیگ کی میزبانی کے لیے آئیڈیل جگہ متحدہ عرب امارات کے گراؤنڈز ہیں لیکن وہاں سپر لیگ کا انعقاد اسی وقت ممکن ہے اگر پاکستان کرکٹ بورڈ اس بزنس مین کو ماسٹرلیگ کی تاریخوں میں ردوبدل پر قائل کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

ماسٹر لیگ کے منتظمین نے سابق ٹیسٹ کرکٹر ڈین جونز کی کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں۔ڈین جونز ماضی میں متنازعہ انڈین کرکٹ لیگ کے ساتھ بھی وابستہ رہے تھے جسے آئی سی سی نے تسلیم نہیں کیا تھا۔

پاکستان دوہا کو مستقبل میں کرکٹ کے اہم مرکز کے طور پر استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ قطر کے حکام نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اپنا وسیع تجربہ قطر کی کرکٹ کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی خواہش ظاہر کررکھی ہے۔

پاکستان سپر لیگ پاکستان کرکٹ بورڈ کا دیرینہ خواب ہے لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس کے انعقاد میں تاخیر ہوتی رہی ہے۔

یہ وہی پروجیکٹ ہے جس کے پیپر ورک کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ذکا اشرف کے دور میں آئی سی سی کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہارون لوگارٹ کی کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات حاصل کیں جس کے لیے انھیں تقریباً سوا لاکھ ڈالرز معاوضہ ادا کیا گیا۔

اس وقت بھی بورڈ نے سپر لیگ کے لیے بھاری تنخواہوں اور مراعات پر سٹاف کی خدمات حاصل کررکھی ہیں جس پر کچھ حلقوں نے اعتراض کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pakistan Cricket Board
Image caption پاکستان سپر لیگ پاکستان کرکٹ بورڈ کا دیرینہ خواب ہے لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس کے انعقاد میں تاخیر ہوتی رہی ہے(فائل فوٹو)

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اپنے آفیشلز کے درمیان اس بات پر اختلاف رائے رہا ہے کہ یہ سپر لیگ پاکستان کرکٹ بورڈ خود کرائے یا اس کے انعقاد کے لیے کسی ایونٹ منیجمنٹ کمپنی کی خدمات حاصل کی جائیں، جس کے بعد بورڈ نے ایک غیرملکی کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں جس نے بورڈ کو سپرلیگ کے لیے ضروری گائیڈ لائن دی ہے۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی بزنس کمیونٹی کی سپرلیگ کی طرف متوجہ ہوسکے گی اور اتنا پیسہ لگاسکے گی جس کی پاکستان کرکٹ بورڈ توقع کررہا ہے ؟۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس سپرلیگ میں پانچ فرنچائز ٹیمیں حصہ لیں گی اور اسے اس سے زیادہ تعداد میں سرمایہ کاروں کی طرف سے مثبت جواب مل چکا ہے۔

بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ سپر لیگ آئی پی ایل سے متصادم نہیں ہے لہذا وہ جن بڑے ناموں والے کرکٹرز کو سپر لیگ میں دیکھنا چاہتا ہے ان سے معاہدے ممکن ہوسکیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اگر یہ سپر لیگ کامیابی سے ہمکنار ہوگئی تو اس کا فائدہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو ہوگا اور ساتھ ہی وہ اپنی اے اور انڈر 19 ٹیموں کے غیرملکی دوروں کے اخراجات آسانی سے پورے کرنے کے قابل ہوسکے گا۔

اسی بارے میں