پاکستان ہاکی ٹیم کی خراب کارکردگی کی رپورٹ تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی ہاکی ٹیم ورلڈ کپ میں بھی شرکت سے محروم ہو چکی ہے۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کی اولمپک کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں انتہائی مایوس کن کارکردگی اور قومی ہاکی کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے حکومت کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے دی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے وزیراعظم سے اس سلسلے میں مناسب اقدامات کرنے کی درخواست کر دی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم بیلجیئم میں ہونے والے اولمپک کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں دس ٹیموں میں آٹھویں نمبر پر آئی اور وہ اپنی تاریخ میں پہلی بار اولمپکس میں شرکت سے محروم ہوئی ہے۔

اس سے قبل پاکستانی ہاکی ٹیم ورلڈ کپ میں بھی شرکت سے محروم ہو چکی ہے۔

پاکستانی ٹیم کی اس بدترین کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم نے جو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن بھی ہیں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس نے اب اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے دی ہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ دو تین روز میں ہونے والا ہے اور فیڈریشن کے نئے صدر کے طور پر سابق وزیراعظم میرظفراللہ جمالی کا نام سامنے آیا ہے جو اس سے قبل بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر رہ چکے ہیں جبکہ سیکریٹری کے لیے سابق اولمپئنز شہباز سینیئر، خواجہ جنید، نوید عالم اور پی ایچ ایف کے سابق سیکریٹری کرنل (ریٹائرڈ) مدثر اصغر کے نام لیے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ موجودہ حالات میں حکومت پر فیڈریشن کے موجودہ صدر اختر رسول اور سیکریٹری رانا مجاہد کو ہٹانے کے لیے زبردست دباؤ ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ رانا مجاہد کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی منظور شدہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے مقابلے میں متوازی ایسوسی ایشن قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ بننے پر دس سالہ پابندی کا سامنا ہے۔

حکومت کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا ذمہ دار فیڈریشن سلیکشن کمیٹی ٹیم منیجمنٹ اور کھلاڑیوں کوٹھہرایا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اولمپک کوالیفائنگ ٹورنامنٹ کے لیے وقت پر تربیتی کیمپ کا انعقاد نہیں کیا گیا۔ کھلاڑیوں اور آفیشلز کا سلیکشن میرٹ پر نہیں کیا گیا جبکہ کھلاڑیوں کی فٹنس بھی مطلوبہ معیار کی نہیں تھی۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ہاکی میں سپانسرشپ کی اہمیت کے پیش نظر کارپوریٹ سیکٹر کے موثر کردار کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

اسی بارے میں