ممنوعہ ادویات کا استعمال: ’ایتھلیٹکس ادارہ تحقیق دبا رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنہ 2011 میں کیے جانے والے مطالعے میں سینکڑوں کھلاڑیوں نے تحقیق کرنے والوں کو بتایا تھا کہ انھوں نے دھوکہ دیا تھا

برطانوی اخبار دا سنڈے ٹائمز کے مطابق ایتھلیٹکس کے عالمی ادارے نے اس تحقیق کو دبایا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ دنیا کے ایک تہائی بڑے کھلاڑیوں نے ممنوعہ ادویات کے استعمال پر پابندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق جرمنی کی ٹوبنجن یونیورسٹی نے مبینہ طور پر انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشن (آئی اے اے ایف) کو اس بارے میں بتایا تھا اور اس نے اس کی اشاعت روک دی تھی۔

سنہ 2011 میں کیے جانے والے مطالعے میں سینکڑوں کھلاڑیوں نے تحقیق کرنے والوں کو بتایا تھا کہ انھوں نے دھوکہ دیا تھا۔

آئی اے اے ایف کا کہنا ہے کہ وہ رپورٹ کی اشاعت کے بارے میں غور و خوض کر رہے تھے۔

اخبار میں شائع ایک بیان میں یونیورسٹی نے کہا: ’یہ مطالعہ آزادانہ طور پر کیا جانے والا سائنسی مطالعہ تھا اور اسے آئی اے اے ایف نے کمیشن نہیں کیا تھا۔

’بغیرکسی معقول وجہ کے آئی اے اے ایف کی جانب سے رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر اشاعت کی آزادی پر سنگین قدغن ہے۔‘

آئی اے اے ایف نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’رپورٹ کی اشاعت کے لیے تحقیق کرنے والی ٹیم اور واڈا (ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی) کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption تحقیق کے دوران ایک تہائی بڑے کھلاڑیوں نے ممنوعہ ادویات کی پابندی کی خلاف ورزی کی بات تسلیم کی

خیال رہے کہ چار سال قبل درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ایک ریسرچ ٹیم نے جنوبی کوریا کے دائیگو شہر میں ورلڈ چیمپیئن شپ کے دوران سینکڑوں ایتھلیٹوں کا انٹرویو کیا تھا۔

سنڈے ٹائمز کے مطابق اس مطالعے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جن 1800 کھلاڑیوں کا انٹرویو کیا گیا تھا ان میں سے 29 سے 34 فی صد کھلاڑیوں نے یہ کہا تھا کہ انھوں گذشتہ ایک سال کے دوران اینٹی ڈوپنگ ضابطے کو توڑا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معلومات حاصل کرنے کے ایک ماہ بعد ریسرچروں کے ساتھ رازداری کا ایک معاہدہ کیا گیا جس کے تحت وہ اس کے بارے میں کہیں نہیں بول سکتے تھے۔

اس رپورٹ کی ایک کاپی لیک ہوگئي جسے سنڈے ٹائمز اور جرمنی کے بروڈکاسٹر اے آڑ ڈبلیو/ڈبلیو ڈی آر نے دیکھا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بڑے کھلاڑیوں میں ممنوعہ ادویات کا استعمال عام ہے اور جانچ کے حالیہ حیاتیاتی پروگرام کے باوجود اس کا پتہ نہیں چل پاتا ہے یا اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ رپورٹ ڈائیگو میں ہونے والے کھیلوں کے مقابلے کے دوران انٹرویز پر مبنی ہے

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل پانچ ہزار کھلاڑیو کے 12 ہزار خون کے نمونے کے نتائج حاصل ہونے کے بعد اخبار نے جو انکشافات کیے تھے اس سے اس کے نتائج مختلف نہیں ہیں۔

دو ایٹی ڈوپنگ ماہرین نے یہ پایا تھا کہ سنہ 2001 سے 2012 کے درمیان ہونے والے اولمپکس اور بین الاقوامی مقابلوں میں میڈل جیتنے والے ایک تہائی ایتھليٹس نے محدود منشیات یا پھر کارکردگی میں اضافہ کرنے والی ادویات کا استعمال کیا تھا۔

آئی اے اے ایف نے کہا ہے کہ اس میں بہت جگہ شدید طور پر غلط نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس تحقیق کے لیے واڈا نے 50 ہزار برطانوی پاؤنڈ دیے تھے اور آئی اے اے ایف نے اس میں کوئی کردار نہیں نبھایا ہے تاہم اسے اس کی اشاعت روکنے کا اس شرط پر اختیار ہے کہ وہ ان کو ڈائيگو میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں کو فراہم کرائے۔

سنڈے ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی کچھ باتیں دو سال قبل نیویارک ٹائمز میں آئی تھیں لیکن آئی اے اے ایف نے اس کی اشاعت رکوا دی تھی۔

اسی بارے میں