نظریں ٹی 20 ٹورنامنٹ میں محمد عامر کی کارکردگی پر

Image caption ’امید ہے کہ محمد عامر کی رواں سال کے اختتام سے پہلے قومی ٹیم میں واپسی ہو جائے گی‘

پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ منعقد ہونے والی قومی ٹی 20 ٹورنامنٹ میں فاسٹ بولر محمد عامر کی کارکردگی پر نظر رکھے گا۔

جنوری میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے محمد عامر کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی تھی اور اب وہ آئندہ ماہ قومی ٹی 20 ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔

محمد عامر نے کرکٹ کی دنیا میں دوبارہ قدم رکھ دیا

محمد عامر کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی

سلمان بٹ نے سپاٹ فکسنگ کا اعتراف کر لیا

دوسری جانب اسی سکینڈل میں ملوث سابق کپتان سلمان بٹ کو بھی قوی امید ہے کہ ان پر عائد پانچ سالہ معطلی ختم ہو جائے گی اور وہ بھی ستمبر میں پانچ سالہ پابندی ختم ہونے کی صورت میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپس آ سکیں گے۔

محمد عامر پر سنہ 2010 میں سپاٹ فکسنگ کے الزام میں پانچ برس کی پابندی لگائی گئی تھی جو اب آئندہ ماہ ستمبر کو ختم ہونی ہے۔

ٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ آئندہ ماہ کی یکم تاریخ کو راولپنڈی میں شروع ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکینڈل میں ملوث تیسرے کرکٹر محمد آصف کی جانب سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے پتہ چل سکے کہ وہ کرکٹ میں واپس آنے کے لیے سنجیدہ ہیں

راولپنڈی میں پی سی بی کے اہلکار نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت قومی ٹیم میں اچھے فاسٹ بولروں کی پہلی ہی کمی ہے اور محمد عامر کی ٹیم میں شمولیت سے بولنگ کے شعبے کی کارکردگی میں مدد گار ثابت ہو گی۔

’پاکستان کرکٹ بورڈ محمد عامر کی کارکردگی پر نظر رکھے گا جن کی جلد ہی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی متوقع ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹی 20 ٹورنامنٹ میں محمد عامر راولپنڈی ریمز کی نمائندگی کر رہے ہیں اور مقامی سطح پر بھی ان کی کارکردگی کی نگرانی کی جائے گی۔

’ہمیں عامر سے بہت زیادہ توقعات ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ انھیں یقیناً رواں سال کے اختتام سے پہلے قومی ٹیم میں کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔‘

پی سی بی کے اہلکار نے مزید کہا ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں 16 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور سلیکٹرں کو ایک موقع ملے گا کہ وہ دوسرے کھلاڑیوں کی کارکردگی کا مشاہدہ کر سکیں۔

’سلیکٹر اس ٹورنامنٹ میں شامل کئی نوجوان کرکٹروں کے علاوہ سینیئر کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیں گے۔‘

سلمان بٹ کو بھی کرکٹ میں واپسی کی امید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر آئی سی سی نے سلمان بٹ کے مثبت رویے کے بارے میں بھی اطمینان کر لیا تو اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ ان کی پانچ سالہ معطلی بھی ختم ہو جائے

سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث سابق کپتان سلمان بٹ کو بھی قوی امید ہے کہ ان پر عائد پانچ سالہ معطلی ختم ہو جائے گی اور وہ بھی ستمبر میں پانچ سالہ پابندی ختم ہونے کی صورت میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپس آ سکیں گے۔

سلمان بٹ نے گذشتہ دنوں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے حکام سے دبئی میں ملاقات کی تھی جو ان کی جانب سے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے باضابطہ اعتراف کے بعد ہونے والی پہلی ملاقات تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ کہنا تھا کہ سلمان بٹ نے محمد عامر کی طرح کھلے دل کے ساتھ سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کی بحالی کے پروگرام میں تاخیر ہوئی۔

تاہم دو ماہ قبل سلمان بٹ نے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے سامنے باضابطہ طور پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا، لہٰذا پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ معاملہ آئی سی سی کے سپرد کر دیا تھا اور سلمان بٹ کی اینٹی کرپشن یونٹ سے ملاقات اسی سلسلے کی کڑی تھی۔

یاد رہے کہ سلمان بٹ محمد آصف اور محمد عامر 2010 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے موقعے پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے جس پر انھیں نہ صرف آئی سی سی کے اینٹی کرپشن ٹرییبونل نے پانچ سے دس سال تک پابندی اور معطلی کی سزائیں سنائی تھیں بلکہ اس جرم میں انھیں لندن میں قید کی سزائیں بھی کاٹنا پڑی تھیں۔

محمد عامر کی پانچ سالہ پابندی آئندہ ماہ ختم ہو رہی ہے لیکن آئی سی سی کے اینٹی کرپشن قواعد وضوابط میں تبدیلی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی غیرمعمولی دلچسپی کے نتیجے میں محمد عامر کو اس سال اپریل میں پیٹرنز ٹرافی گریڈ ٹو ٹورنامنٹ کھیلنے کا موقع مل گیا تھا۔

اگر آئی سی سی نے سلمان بٹ کے مثبت رویے کے بارے میں بھی اطمینان کر لیا تو اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ ان کی پانچ سالہ معطلی بھی ختم ہو جائے گی۔

اس سکینڈل میں ملوث تیسرے کرکٹر محمد آصف کی جانب سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے پتہ چل سکے کہ وہ کرکٹ میں واپس آنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

اسی بارے میں