’سنگاکارا کے خلاف حکمت عملی بنانا آسان نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وقار یونس سمیت وسیم اکرم اور شعیب اخترکو بھی اعتماد سے کھیلا اور مشتاق، ثقلین اور کنیریا کے خلاف بھی بڑی اننگز کھیلیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور کوچ وقاریونس نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے والے کمار سنگاکارا اور مائیکل کلارک کو عظیم کرکٹرز قرار دیا لیکن جن حالات میں مائیکل کلارک ریٹائر ہو رہے ہیں اس پر انھیں افسوس بھی ہے۔

مصباح الحق نے بی بی سی کو دیے ایک انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے سنگاکارا کو سنہ 2001 میں پاکستان اور سری لنکا کی اے ٹیموں کی سیریز میں پہلی بار کھیلتے دیکھا تھا اور انھیں اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں ایک اہم بیٹسمین کے طور پر سامنے آئیں گے۔

سنگاکارا نے 15 سالہ کریئر میں جو ریکارڈز قائم کیے وہ بذات خود ان کی عظمت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ سنگاکارا نے مہیلا جے وردھنے کے ساتھ مل کر سری لنکن ٹیم کی فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس عرصے میں سری لنکا نے ان کی شاندار کارکردگی کے نتیجے میں ورلڈ کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے پانچ فائنلز کھیلے۔

وہ بجا طور پر سری لنکن بیٹنگ لائن کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں۔

پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ ’وہ صرف سری لنکا نہیں بلکہ پوری کرکٹ کی دنیا کے لیے ایک اہم کرکٹر اور کھیل کے بہترین سفیر رہے۔کرکٹ کے میدان میں اور میدان سے باہر انھیں ہمیشہ پیار اور احترام سے دیکھا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصباح الحق نے کہا کہ سنگاکارا نے مہیلا جے وردھنے کے ساتھ مل کر سری لنکن ٹیم کی فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ مائیکل کلارک کی چھاپ آسٹریلوی کرکٹ پر واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔

’ان کی کپتانی میں آسٹریلیا نے ورلڈ کپ جیتا،گذشتہ ایشیز جیتی اور بحیثیت بیٹسمین بھی اپنی بہترین کارکردگی کے انمٹ نقوش چھوڑے۔بدقسمتی سے پچھلے کچھ عرصے سے وہ فٹنس مسائل کا شکار رہے جس کی وجہ سے انھیں کرکٹ چھوڑنا پڑی ہے۔‘

مصباح الحق نے کہا کہ ان کی نیک تمنائیں دونوں کرکٹرز سنگاکارا اور کلارک کے لیے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ دونوں اپنے الوداعی ٹیسٹ میچوں میں اچھی کارکردگی دکھاکر رخصت ہوں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس نے سڈنی سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انھیں افسوس ہے کہ جن حالات میں مائیکل کلارک کو ریٹائر ہونا پڑا ہے اس کی وجہ سے انھیں اس طرح کا کریڈٹ نہیں مل رہا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ ایشیز سیریز میں پانچ، صفر کی جیت اور ورلڈ کپ کا فاتح بننا کلارک کے کریئر کے دو اہم واقعات ہیں۔ اس کے علاوہ بھی انھوں نے اپنے ملک کے لیے بحیثیت بیٹسمین اور کپتان غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ ایشیز سیریز میں پانچ، صفر کی جیت اور ورلڈ کپ کا فاتح بننا کلارک کے کریئر کے دو اہم واقعات ہیں

’حالیہ کچھ مہینوں سے ان کی بیٹنگ کی کارکردگی نیچے آگئی تھی اور پھر موجودہ ایشیز سیریز میں آسٹریلوی ٹیم کو انگلینڈ میں بری طرح شکست ہوئی لیکن کلارک نے اپنے کریئر میں جو کچھ بھی کیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔‘

وقاریونس نے سنگاکارا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’نوجوان کرکٹرز کے لیے وہ ہمیشہ قابل تقلید رہے اور ان کی سب سے بڑی خوبی ان کی انکساری ہے۔‘

سابق فاسٹ بولر وقار تونس کا کہنا تھا کہ وہ سنگاکارا کے خلاف کھیلے ہیں اور کپتان اور کوچ کی حیثیت سے انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان جیسے بیٹسمینوں کے خلاف حکمت عملی ترتیب دینا کبھی آسان نہ تھا کیونکہ وہ ان چند ہی بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں جن کی تکنیکی خامیاں بہت ہی کم ہوتی ہیں۔

وقاریونس نے کہا کہ سنگاکارا تیز اور سپن دونوں کو ایک ہی مہارت کے ساتھ کھیلنے والے بیٹسمین ہیں اور انھوں نے پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ رنز اور سنچریاں سکور کیں۔

انھوں نے وقار یونس سمیت وسیم اکرم اور شعیب اخترکو بھی اعتماد سے کھیلا اور مشتاق، ثقلین اور کنیریا کے خلاف بھی بڑی اننگز کھیلیں۔

اسی بارے میں