داؤد ابراہیم کراچی میں ہے اور آپ کو امید ہے کہ ہم آپ سے کرکٹ کھیلیں؟

Image caption ’داؤد ابراہیم کراچی میں ہے، قومی سلامتی کے مشیر یہاں علیحدگی پسندوں سے ملنا چاہتے ہیں‘

بھارت کے کرکٹ بورڈ نے کشمیر کے حریت رہنماؤں کے ساتھ ملاقات اور زیرِ زمین سرغنہ داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کا الزام عائد کر کے پاکستان سے کرکٹ سیریز پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان 23 اگست کو ملاقات منسوخ ہو گئی ہے۔

نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری حریت رہنماؤں کو سرتاج عزیز سے ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا جسے بھارت نے جواز بناتے ہوئے کہا کہ سرتاج عزیز مذاکرات سے قبل کشمیری رہنماؤں سے ملاقات نہ کریں۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا کہ زیرِ زمین سرغنہ ابراہیم پاکستان کے شہر کراچی میں موجود ہیں اور ثبوت کے طور پر ان کی بیوی کے نام سے کلفٹن میں واقع گھر کے ٹیلیفون کے بل کی تصویر بھی دکھائی۔

داؤد ابراہیم پر 1993 ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے جس میں 257 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ نے اس بات کو جواز بناتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان سے کرکٹ سیریز پر سوالہ نشان لگا دیا ہے۔

بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’داؤد ابراہیم کراچی میں ہے، قومی سلامتی کے مشیر یہاں علیحدگی پسندوں سے ملنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ واقعی امن کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور آپ ہم سے امید کرتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ کرکٹ کھیلیں گے؟‘

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان ایک معاہدے کی یادداشت کر دستخط کیے گئے تھے جس کے تحت پی سی بی نے بی سی سی آئی سے دسمبر میں دوطرفہ سیریز کھیلنے کی درخواست کی تھی۔

پروگرام کے تحت بھارت کو پاکستان سے دو ٹیسٹ اور پانچ ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنی ہے جہاں پاکستان ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات میں بھارت کی میزبانی کرتا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان 2007 میں انڈیا میں کھیلے جانے والی سیریز کے بعد سے کوئی باقاعدہ مکمل کرکٹ سیریز نہیں کھیلی گئی۔

بھارت کو اس کے بعد سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آنا تھا لیکن 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کے ساتھ ساتھ کرکٹ تعلقات بھی متاثر ہوئے اور اس کے بعد متعدد کوششوں کے باوجود کوئی مکمل سیریز نہیں کھیلی جا سکی۔