میں بدعنوان نہیں ہوں: سیپ بلیٹر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فیفا نے رواں برس مئی میں 79 سالہ سیپ بلیٹر کو پانچویں بار تنظیم کا صدر منتخب کیا تھا

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے سبکدوش ہونے والے صدر سیپ بلیٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ’بدعنوان‘ نہیں اور ’فٹبال میں کوئی بدعنوانی‘ نہیں ہے۔

سیپ بلیٹر سنہ 1998 سے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر ہیں اور وہ فیفا میں کرپشن کے الزامات کے تحت ہونے والی تحقیقات کے دوران آئندہ برس فروری میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

فیفا نے رواں برس مئی میں 79 سالہ سیپ بلیٹر کو پانچویں بار صدر منتخب کیا تھا۔

سیپ بلیٹر کے مطابق ’میں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ میں فیفا کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ میں اتنا مضبوط ہوں کہ اپنی حفاظت کر سکوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے جو کیا اور جو نہیں کیا اس کا مجھے علم ہے۔

سیپ بلیٹر نے کہا ’میں جانتا ہوں کہ میں ایماندار آدمی ہوں، میں بدعنوان اور پریشان نہیں ہوں‘

بی بی سی سپورٹس نیوز کے نامہ نگار رچرڈ کونوے کو ایکسکلوسِو انٹرویو میں سیپ بلیٹر نے فیفا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فیفا میں ادارے کے طور پر میں کوئی بدعنوانی نہیں ہے، ہاں کچھ لوگ خراب ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لیے انھیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2010 کا فٹبال کا عالمی کپ ’شفاف ترین عالمی کپ تھا۔‘

واضح رہے کہ امریکی استغاثہ نے رواں برس مئی میں فٹبال میں مجرمانہ تحقیقات شروع کی تھیں اور اس کے تحت 14 ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ رواں برس مئ میں زیورخ میں ایک ہوٹل میں پولیس چھاپے کے بعد فیفا کے سات اہم اہلکاروں کو حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد فیفا بدعنوانیوں کے الزامات میں گھر گئی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کی درخواست پر ان سات اہکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس نے 14 موجودہ اور سابقہ فیفا اہلکاروں اور ان کے معاونین پر بدعنوانی کے سنگین مقدمات قائم کیے تھے۔

امریکہ کی جانب سے جن 14 افراد پر ریکٹیئرنگ اور غیر قانونی طور پر پیسے کے لین دین کے الزمات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی ان میں سے فیفا کے سات جونیئر اہلکاروں کے علاوہ دو نائب صدور تھے۔

ان 14 ملزمان کےگروپ میں سے سات کو سوئٹزرلینڈ میں رواں برس مئی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سوئس استغاثہ سنہ 2018 میں روس اور سنہ 2022 میں قطر کو عالمی کپ کی میزبانی کا حق دیے جانے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

اسی بارے میں