جمیکا کے یوسین بولٹ دو سو میٹر کے بھی عالمی چیمپیئن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ اتوار کو ہونے والی سو میٹر کی دوڑ میں بھی یوسین بولٹ نے ایک سخت مقابلے کے بعد جسٹس گیٹلن کو شکست دی تھی۔

چین کے شہر بیجنگ میں جاری عالمی ایتھلیٹکس مقابلوں میں مردوں کی دو سو میٹر کی دوڑ جمیکا سے تعلق رکھنے والے مشہور ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے جیت لی ہے۔

جمعرات کی شب ہونے والے مقابلے میں جمیکا سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ بولٹ نے مقررہ فاصلہ 19.55 سیکنڈ میں طے کر کے نہ صرف طلائی تمغہ جیتا بلکہ اپنے عالمی اعزاز کا تیسری مرتبہ کامیابی سے دفاع بھی کیا۔

ان کے قریب ترین حریف امریکہ کے 33 سالہ جسٹن گیٹلن رہے جنھوں نے مقررہ فاصلہ 19.74 سیکنڈز میں طے کیا اور نقرئی تمغہ جیتا۔

اس ریس میں جنوبی افریقہ کے ایتھلیٹ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

بولٹ سنہ 2009 سے لگاتار ایتھلیٹکس کے عالمی مقابلوں میں 200 میٹر کی دوڑ جیتتے آ رہے ہیں۔

یہ ایتھلیٹکس کے عالمی مقابلوں میں بولٹ کا دسواں طلائی تمغہ ہے۔ ان دس تمغوں میں سے دو انھوں نے رواں برس سو میٹر اور دو سو میٹر کی دوڑ میں حاصل کیے ہیں۔

گذشتہ اتوار کو ہونے والی سو میٹر کی دوڑ میں یوسین بولٹ نے ایک سخت مقابلے کے بعد جسٹس گیٹلن کو شکست دی تھی۔

رواں برس اس عالمی ایونٹ میں ان دونوں کے باہمی مقابلے ایتھلیٹکس میں اعزازات حاصل کرنے والے ایتھلیٹس کی جانب سے ممنوعہ ادویات کے استعمال کی حالیہ خبروں کے بعد بھی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

جہاں یوسین بولٹ پر کبھی بھی اس قسم کی قوت بخش ادویہ کے استعمال کا الزام نہیں لگا وہیں جسٹن گیٹلن ایسی ادویات کے استعمال کرنے کی وجہ سے پابندی کا شکار رہ چکے ہیں۔

گیٹلن نے سنہ 2004 اولمپکس اور 2005 کی عالمی چیمپیئن شپ میں 100 میٹر دوڑ میں طلائی کا تمغہ جیتا تھا لیکن وہ 2006 سے 2010 تک دو بار ممنوعہ ادویات کےاستعمال کی وجہ سے پابندیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں