’عامر،آصف اور سلمان کی ٹیم میں ابھی کوئی جگہ نہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر ہارون رشید نے کہا ہے کہ پابندی کے خاتمے کے باوجود سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث پاکستانی کرکٹرز محمد آصف ، محمد عامر اور سلمان بٹ کے لیے موجودہ کرکٹ ٹیم میں ابھی کوئی جگہ نہیں ہے۔

ان تینوں کھلاڑیوں پر عائد آئی سی سی کی پابندی کی مدت دو ستمبر کو ختم ہو رہی ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ہارون رشید کا کہنا تھا کہ تینوں کھلاڑیوں کو کھیل کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کی سچائی ثابت کرنے پر زیادہ توجہ دینا ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ ان تینوں کو عوام کو یہ بار بار بتانا ہو گا کہ وہ غلطی کرنے پر پچھتا رہے ہیں اور شرمندہ ہیں۔’انھیں ہر وقت بتانا ہوگا کہ ہمیں افسوس ہے ہم نے جو کیا اور اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ اگر واپس آئیں گے تو صرف اور صرف ملک کی بہتری اور کرکٹ ٹیم کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔‘

ان کے مطابق پی سی بی کی جانب سے ان تینوں کھلاڑیوں کے لیے شروع کیے گئے بحالی کے پروگرام کا مقصد یہی ہے کہ انھیں احساس ہو کہ انھوں نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہو کر پاکستان کے لیے کس قدر بدنامی سمیٹی ہے۔

’ان تینوں کھلاڑیوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ انھوں نے کیا کھویا اور ان کو کہا گیا ہے کہ تمام تجربے کو لیکچرز کی صورت میں علاقائی سطح پر دورے کر کے نوجوان کرکٹرز کو بتائیں۔‘

سابق کپتان سلمان بٹ، اور فاسٹ بولرز محمد آصف اور محمد عامر پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بعد عائد پانچ سالہ پابندی ختم ہونے پر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ’چیف سیلیکٹر ہونے کے ناطے میرا ماننا ہے کہ ان تینوں کو واپس لانے سےایسے تمام کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی ہو گی جنھوں نے گذشتہ پانچ سالوں میں پاکستان پر آنے والی مشکلات کو جھیلا۔ خصوصاً مصباح الحق نے جس طریقے سے ٹیم کو لیڈ کیا ہے ، تو ایسے لوگ جو خود کو پاکستان کا اور ٹیم کا حصہ محسوس کرتے ہیں اگر وہ خوف محسوس کرنے لگیں تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہارون رشید کا کہنا تھا کہ تینوں کھلاڑیوں کو کھیل کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کی سچائی ثابت کرنے پر زیادہ توجہ دینا ہو گی

ہارون رشید کا یہ بھی خیال ہے کہ پانچ سال باہر رہنے کے بعد کسی پروفیشنل کرکٹر کے لیے واپس آنا آسان نہیں۔

سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے اہم کردار محمد عامر کہتے ہیں کہ وقت بہت بڑا استاد ہے اور وہ اب سمجھ چکے ہیں کہ ساری دنیا ان کی مداح نہیں ہو سکتی۔

محمد عامر پانچ سال کی پابندی گزارنے کے بعد اپنی سوچ میں پختگی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر چیز کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنا پڑتا ہے۔

ان کے مطابق ’پروفیشنل کا کام ہی یہی ہے کہ ہر چیز کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرے اور اسے مثبت انداز میں اپنائے ورنہ آپ کی بنی چیزیں بھی بگڑ جاتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں آپ ایک مختلف محمد عامر کو دیکھیں گے۔‘

ماہرین کے مطابق تکنیکی اعتبار سے محمد آصف ، سلمان بٹ اور محمد عامر آئی سی سی کی جانب سے لگی پابندی کے خاتمے کے بعد کرکٹ میں واپس آنے کے حقدار ہیں مگر اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو ان تینوں کے مستقبل کے بارے میں یہ اہم فیصلہ کرنا ہے کہ کیا انہیں بہترین کرکٹرز کے طور پر ٹیم میں واپس اپنا لیا جائے گا یا پوری زندگی انہیں اخلاقیات کے کٹہرے میں کھڑا رکھ کر مجرم کے طور پر ہی دیکھا جائے گا۔

تاہم ہارون رشید کے مطابق’ان کھلاڑیوں کے لیے فطری طور پر اتنا آسان نہیں ہو گا جو اب بھی ٹیم کا حصہ ہیں اور اُس وقت اِس پورے سکینڈل کے عینی شاہد تھے۔ وہ یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ کس قدر بڑا دھچکا تھا اور پاکستان کس برے طریقے سے بدنام ہوا۔‘

اسی بارے میں