’وہ نہیں ہوا جو ملاقات میں طے ہوا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق صدر میر ظفراللہ خان جمالی نے ہاکی فیڈریشن کی موجودہ تشکیل پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ اس انداز سے نہیں ہوا جو وزیراعظم نواز شریف سے ان کی ملاقاتوں میں طے ہوا تھا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نےگذشتہ ہفتے بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) خالد کھوکھر کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کا صدر مقرر کیا تھا جنھوں نے بدھ کو سابق اولمپیئن شہباز احمد کو فیڈریشن کا سیکریٹری، جبکہ رشید جونیئر کو چیف سلیکٹر اور طاہر زمان جونیئر کو ہاکی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا ہے۔

میر ظفر اللہ جمالی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انھوں نےموجودہ صورتِ حال پر وزیراعظم نواز شریف سے فوری رابطہ کیا اور انھیں بتا دیا کہ اگر پاکستانی ہاکی کا کھویا ہوا وقار بحال کرنا ہے تو نیک نیتی پر مبنی فیصلے کرنے ہوں گے۔

میر ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ وزیراعظم نے انھیں قومی ہاکی کو تباہی سے نکالنے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرنے کے لیے کہا تھا جس پر انھوں نے وزیراعظم کو ایک منصوبہ پیش کیا تھا جس کے ذریعے قومی ہاکی کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کیا جا سکتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقاتوں میں یہ طے ہوا تھا کہ فیڈریشن کے صدر کی تقرری کر دی جائے جس کے بعد باقی عہدے ان کی مشاورت سے طے کیے جائیں گے اور قومی ہاکی کی بہتری کے لیے لائحہ عمل وضع کیا جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

میر ظفر اللہ جمالی کا کہنا ہے کہ بین الصوبائی وزارت کے سیکریٹری اعجاز چوہدری نے مبینہ طور پر اس تمام معاملے کو خراب کیا ہے جو ایک ماہ بعد وزارت سے ریٹائر ہو رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل بن جائیں۔

میر ظفر اللہ جمالی نے اس بات پر سخت حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مستعفی ہونے والے سیکریٹری رانا مجاہد کو پھولوں کے ہار پہنا کر رخصت کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن میں حالیہ برسوں کے درمیان مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور پیسے کا غلط استعمال ہوا ہے جس کا احتساب لازمی ہے۔

اسی بارے میں