’بھارت کے ساتھ سیریز، بگ تھری کا ووٹ بھی کام نہیں آیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود کو یقین ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز نہیں کھیلے گا حالانکہ پاکستان نے اسے بگ تھری کا ووٹ اپنے ساتھ کھیلنے کی یقین دہانی کی بنیاد پر ہی دیا تھا۔

خالد محمود نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آج اگر بھارت پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کررہا ہے تو انھیں اس بات پر قطعاً حیرت نہیں ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان جب بھی تعلقات کشیدہ ہوئے بھارت نے کرکٹ کو ہی سب سے پہلے زد پہنچائی۔

پاک بھارت کرکٹ کا امکان نہ ہونے کے برابر: شہریار خان

خالد محمود نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ 1999ء میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دورۂ بھارت روکنے کے لیے بی سی سی آئی کے صدر دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ سریز رکوانے کے لیے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ کی وکٹ اکھاڑ دی گئی اُس وقت کے آئی سی سی کے صدر جگ موہن ڈالمیا کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔

پی سی بی کے سابق چئیرمین نے کہا کہ بھارت میں شدت پسند عناصر اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں اور اب تو بھارت میں اس جماعت کی حکومت ہے جس کی انتخابی مہم میں پاکستان مخالفت نکتہ پیش پیش تھا۔

خالد محمود نے کہا کہ ’بھارت نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ باقاعدگی سے کھیلنے کی یقین دہانی کراوئی تھی اور اسی کے بدلے پاکستان نے اپنا ووٹ بھی بگ تھری کے معاملے میں اسے دیا تھا کم ا زکم پاکستان کرکٹ بورڈ کے اسوقت کے صدر نجم سیٹھی نے ہمیں یہی بات بتائی تھی۔‘

خالد محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھارت سے کھیلنے کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہیے لیکن اس معاملے میں اسے باوقارانداز اپنانا چاہیے

انھوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار نہیں تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کے پیچھے بھاگنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ جان کر سخت حیرت ہوئی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان نے اپنے ہم منصب جگ موہن ڈالمیا کے بجائے بی سی سی آئی کے سیکریٹری کو خط لکھا ہے۔‘

اسی بارے میں