پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ میں شعیب ملک اوپر، سعید اجمل نیچے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شعیب نے سری لنکا کے خلاف ہونے والی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی اچھی پرفارمنس دکھائی تھی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہفتے کو 27 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیے ہیں جن میں شعیب ملک بھی شامل ہیں۔

سینٹرل کنٹریکٹ میں 27 کھلاڑیوں کو اضافی رقم اور جیتنے پر دیے جانے والے بونس کو بھی بحال کیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شعیب ملک کو اس سال جنوری میں دیے جانے والا سینٹرل کنٹریکٹ نہیں دیا گیا تھا۔ تاہم ان کی پرفارمنس دیکھتے ہوئے اس بار نہ صرف ان کو کنٹریکٹ دیا گیا ہے بلکہ کیٹیگری اے دی گئی ہے۔

شعیب ملک نے مئی میں ہونے والی زمبابوے کے خلاف ایک روزہ سیریز میں سنچری سکور کی تھی۔ یہ ان کی چھ سال میں پہلی سنچری تھی۔

شعیب نے سری لنکا کے خلاف ہونے والی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی اچھی پرفارمنس دکھائی تھی۔

دوسری جانب پاکستان کی ایک روزہ ٹیم کے کپتان اظہر علی کو کیٹیگری بی سے اے میں کیا گیا ہے۔ تاہم متنازع بولنگ ایکشن کے تنازعے کے زد میں آنے والے آف سپنر سعید اجمل کو اے سے بی کیٹیگری میں ڈال دیا گیا ہے۔

سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو پچھلے سال اگست میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران رپورٹ کیاگیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے بولنگ ایکشن کو درست کرنے کے لیے کام کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آف سپنر سعید اجمل کو اے سے بی کیٹیگری میں ڈال دیا گیا ہے

ان کا بولنگ ایکشن تو ٹھیک ہو گیا لیکن اس سال مئی میں ان کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔

ٹیسٹ کپتان مصباح الحق، ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی، یونس خان اور محمد حفیظ کو کیٹیگری اے میں برقرار رکھا گیا ہے۔

تاہم فاسٹ بولر عمر گل جو پہلے بی کیٹیگری میں تھے ان کو سینٹرل کانٹریکٹ نہیں دیاگیا کیونکہ انھوں نے اپریل سے کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا ہے۔

یہ سینٹرل کنٹریکٹ دو ماہ کی تاخیر سے دیےگئے ہیں کیونکہ ان کے حوالے سے پی سی بی اور کھلاڑیوں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک بیان میں کہا ہے ’پی سی بی نے 27 کھلاڑیوں کو چار کیٹیگریز کے کنٹریکٹ دیے ہیں۔ اس کنٹریکٹ میں ان کی ماہانہ فیس اور میچ فیس کو بڑھایا گیا ہے اور جیتنے پر بونس کو بحال کیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمر گل جو پہلے بی کیٹیگری میں تھے ان کو سینٹرل کانٹریکٹ نہیں دیا گیا کیونکہ انھوں نے اپریل سے کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا ہے

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مالی فارمولا اگلے تین سال تک یعنی 30 جون 2018 تک لاگو ہو گا۔

کیٹیگری اے:

اظہر علی، محمد حفیظ، مصباح الحق، شاہد آفریدی، شعیب ملک اور یونس خان۔

کیٹیگری بی:

احمد شہزاد، اسد شفیق، جنید خان، راحت علی، سعید اجمل، سرفراز احمد، وہاب ریاض، یاسر شاہ۔

کیٹیگری سی:

انور علی، فواد عالم، حارث سہیل، محمد عمران، محمد عرفان، محمد رضوان، شان مسعود، عمر اکمل۔

کیٹیگری ڈی:

بابر اعظم، سمیع اسلم، صہیب مقصود، عمر امین، ذوالفقار بابر۔

اسی بارے میں