رمیز اور وسیم پاکستان سپرلیگ کے ’ایمبیسڈرز‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان سپر لیگ جیسے جیسے آگے بڑھےگی یقینی طور پر اس میں کرکٹ کے بڑے نام نظر آئیں گے

سابق ٹیسٹ کرکٹرز رمیز راجہ اور وسیم اکرم پاکستان سپر لیگ کے ایمبیسڈرز مقرر کردیے گئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ سپر لیگ آئندہ سال دوحا قطر میں منعقد کروانے کا اعلان کیا ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کرکٹرز کی بڑی تعداد نے یہ لیگ کھیلنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

رمیز راجہ اور وسیم اکرم نے جمعرات کے روز لاہور میں نجم سیٹھی کے ساتھ پریس کانفرنس میں توقع ظاہر کی کہ پاکستان سپر لیگ کے انعقاد سے پاکستانی کرکٹ میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ہر ایک کی خواہش تھی کہ دنیا کی دوسری لیگ کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اپنی لیگ شروع کرے۔ ابھی یہ لیگ ملک سے باہر ہورہی ہے لیکن امید ہے کہ جلد ہی یہ لیگ پاکستان میں منعقد ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ دنیا کو پاکستان اور پاکستانی کرکٹ کے بارے میں مثبت پیغام دیا جائے تاکہ پاکستان کے بارے میں ایک خاص قسم کی سوچ ختم ہوسکے۔

Image caption ہر ایک کی خواہش تھی کہ دنیا کی دوسری لیگ کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اپنی لیگ شروع کرے

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے انعقاد سے نوجوان کرکٹرز کو نہ صرف مالی فائدہ حاصل ہوگا بلکہ وہ دنیا کے اچھے کرکٹرز اور کوچز کے ساتھ رہ کر بہت کچھ سیکھ سکیں گے۔

وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کو آہستہ آہستہ آگے بڑھنا ہے اور ابھی سے اس کا موازنہ بھارتی کرکٹ لیگ آئی پی ایل سے کرنا درست نہیں کیونکہ آئی پی ایل شروع ہوئے آٹھ برس ہوچکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ جیسے جیسے آگے بڑھےگی یقینی طور پر اس میں کرکٹ کے بڑے نام نظر آئیں گے۔ اس کے باوجود اب بھی اینجیلو میتھیوز اور لستھ ملینگا جیسے اہم کھلاڑیوں نے کھیلنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

وسیم اکرم نے کہا کہ انھوں نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ماسٹر لیگ سائن ضرور کی ہے لیکن ان کی اولین ترجیح پاکستانی کرکٹ ہے جس کے لیے وہ سب کچھ چھوڑ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں