’یقین ہے کہ بولنگ پھر ٹیم کے کام آئے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بولنگ ایکشن کو آئی سی سی کے قوانین کے مطابق بنانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ ایک سالہ پابندی کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کی بولنگ ایک بار پھر پاکستانی ٹیم کے کام آئے گی۔

ایک سال میں دو مرتبہ بولنگ ایکشن رپورٹ ہونے کے نتیجے میں آئی سی سی نے محمد حفیظ پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کر رکھی ہے۔

محمد حفیظ نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ گذشتہ نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں بولنگ ایکشن رپورٹ کیے جانے کے بعد سے وہ مسلسل اپنے بولنگ ایکشن پر کام کر رہے ہیں اور ان کی اس سخت محنت میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے اینالسٹ اور کوچز کے علاوہ مشتاق احمد اور ثقلین مشتاق نے بھی ان کی بھرپور مدد کی ہے۔

محمد حفیظ نے کہا کہ ان کی سوچ واضح ہے کہ انھیں آل راؤنڈر کی حیثیت سے ٹیم میں واپس آنا ہے۔

اگرچہ بیٹنگ بھی میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ ان کی بولنگ نے پچھلے کئی برسوں سے پاکستانی ٹیم کا توازن برقرار رکھنے میں ہمیشہ مدد دی ہے۔

محمد حفیظ نے کہا کہ ایک سالہ پابندی یقیناً ان کے لیے تکلیف دہ بات ہے کیونکہ وہ ہر وقت یہ ہی سوچتے ہیں کہ ان کے دس اوورز ٹیم کے بہت کام آ سکتے ہیں۔

وہ اپنے کریئر کے آغاز سے اب تک ایک ہی بولنگ ایکشن سے بولنگ کرتے آئے ہیں لہذا وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کرکٹ کی بہتری کے لیے کوئی بھی قانون بنایا جاتا ہے تو یہ سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اگر مشکوک بولنگ ایکشن کا قانون ہے تو اس سے تمام بولرز کو گزارا جائے اور جو اسے کلیئر کرے اسے بولنگ کی اجازت ہو اور جو نہ کرسکے اس کے بولنگ ایکشن پر کام کیا جائے۔

محمد حفیظ نے یہ بات واضح کردی کہ وہ صرف بیٹسمین کی حیثیت سے بھی پاکستانی ٹیم میں کھیلنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں ناقدین پر حیرت ہوتی ہے جو وہ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ بولنگ نہیں کر سکتے تو ان کا ٹیم میں جگہ بنانا مشکل ہے۔

محمد حفیظ نے کہا کہ ایسا کہنے والوں کو پہلے ان کے اعداد و شمار اور ریکارڈز دیکھ لینے چاہئیں کہ سنہ 2010 میں پاکستانی ٹیم میں واپسی کے بعد سے ان پانچ برسوں میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ان کی بیٹنگ کی کارکردگی کیا رہی ہے۔ بدقسمتی سے پسند ناپسند کی وجہ سے رائے قائم کر لی جاتی ہے اور ذرائع ابلاغ میں بھی اسی طرح کی منفی خبریں پھیلائی جاتی ہیں جیسا کہ گذشتہ دنوں ان کے بارے میں ایک ویب سائٹ نے یہ خبر دی کہ وہ اپنے بولنگ ایکشن پر کام کیے بغیر ٹی ٹوئنٹی کپ میں بولنگ کر رہے ہیں جس کی تردید پاکستان کرکٹ بورڈ نے کردی ہے۔

محمد حفیظ نے کہا کہ زمبابوے کا دورہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ زمبابوے نے حال ہی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور پاکستانی ٹیم کی کوشش ہوگی کہ اس دورے میں اچھی کارکردگی دکھاکر وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے اپنا مورال بلند کر سکے۔

اسی بارے میں